خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 203
خطبات ناصر جلد سوم ۲۰۳ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء صفائی کا تعلق ہے ایک چپڑاسی بھی اتنے ہی صاف کپڑوں میں آپ کو نظر آئے گا جتنے صاف کپڑوں میں ایک وزیر نظر آئے گا اور ویسے بھی کپڑوں میں بہت سادگی ہے ہمارے ملک میں تو ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو چار پانچ سوروپے گز سے کم والے سوٹ کو پہننے کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتے اور اسی وجہ سے ہمارے معاشرہ میں بہت سا گند آکر شامل ہو گیا ہے البتہ مغربی افریقہ کے لوگوں کو جیسے پہننے کا بہت شوق ہے اور رنگدار کپڑوں کے استعمال کا مردوں کو بہت شوق ہے میں نے یہ بھی دیکھا کہ ہمارے ملک میں عورتیں اتنے رنگ برنگے کپڑے نہیں پہنتیں جتنے کہ وہاں مرد پہنتے ہیں اور پھر نئے سے نئے ڈیزائن رنگ کے لحاظ سے پھولوں کے لحاظ سے ان کے جبوں پر نظر آتے ہیں۔ایک دفعہ مجھے خیال آیا اور میں نے اس بارہ میں غور کیا۔ہم موٹر پر جار ہے تھے۔مجھے میل دومیل کے اندر سینکڑوں جیتے نظر آئے مگر ان میں سے کوئی دو جیتے ایک رنگ کے نہیں تھے۔پتہ نہیں وہ کس طرح اتنے مختلف ڈیزائن بنا لیتے ہیں۔وہ بہر حال بناتے ہیں کیونکہ یہ وہاں کی مانگ ہے۔ویسے جب وہ بجبہ بدلتے ہیں تو ان کی شکلیں بھی بدل جاتی ہیں۔ہم پہچان نہیں سکتے تھے کہ کیا یہ وہی شخص ہے جو کچھ دیر پہلے تھا جس نے کپڑے بدل لئے اور اب کچھ اور لگتا ہے میں اس سلسلہ میں آپ کو ایک لطیفہ بھی سنا دیتا ہوں۔ہم نے جس روز اجے بواوڈے جانا تھا اس سے پہلی رات ہمارے ایمبیسیڈر کے ہاں ہمارا کھانا تھا۔ان کی بیوی نے پتہ نہیں کیوں منصورہ بیگم سے کہا کہ یہ علاقہ بڑا خطرناک ہے آپ کو دیر ہو جائے گی۔آپ کوشش یہ کریں کہ سورج غروب ہونے سے قبل واپس لیگوس پہنچ جائیں۔غرض اس نے وہاں کے حالات کا اچھا خاصا بھیا نک نقشہ کھینچا جو میرے نزدیک غلط تھا۔بہر حال جب انہوں نے یہ کہا اور مجھے اس کا پتہ لگا تو میں نے اپنی جماعت سے کہا کہ ہمارے احمدی پولیس افسر بھی ہوں گے اور فوجی افسر بھی ہوں گے، کسی کو کہیں کہ وہ ہمارے ساتھ چلے۔چنانچہ انہوں نے ایک میجر کی ڈیوٹی لگائی۔اس نے کہا کہ میں اپنے دفتر کا کام ختم کر کے دو پہر کے بعد اپنی آرمڈ یونٹ لے کر پہنچ جاؤں گا اور واپسی پر آپ کے ساتھ آؤں گا۔کوئی ۷۰ ۸۰ میل کے فاصلے پر وہ جگہ تھی۔چنانچہ وہ وہاں پہنچے اور جب مجھ سے ملے تو وہ یونیفارم میں تھے جب ہم