خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 202
خطبات ناصر جلد سوم ۲۰۲ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء ہمارے وفد میں شامل ہوتے وہ بے دھڑک وہاں پہنچتے اور ذرا ذرا سی بات کا اس طرح خیال رکھتے جس طرح اس دفتر میں انہی کی حکومت ہو اور ہیڈ آف دی سٹیٹ سے بھی بڑے دھڑلے سے ملتے۔وزراء کا یہ حال ہے کہ مجھے ایک پرنسپل نے بتایا کہ جب سکول میں داخلے کے دن ہوتے ہیں تو بعض دفعہ ایک ایک دن میں چھ چھ وزیر میرے پاس بعض بچوں کی سفارش لے کر آتے ہیں۔نائیجیریا میں میں نے سکو تو کے گورنر ( سکو تو ، نارتھ ویسٹ سٹیسٹ ہے یعنی شمال مغربی صوبہ اسے انہوں نے سٹیٹ کہا ہے نئے Constitution ( آئین ) کے مطابق انہوں نے اپنے ملک کو بارہ صوبوں میں تقسیم کر دیا ہے۔یہ سکو تو مسلمانوں کا علاقہ ہے ) کے پاس جس دوست کو بھیجا تھا وہ کیبنٹ سیکرٹریٹ میں ڈپٹی سیکرٹری تھے۔چنانچہ وہ بڑے دھڑلے سے گئے اور گورنر سے گفتگو کی اور میری تجویز کو ان کے سامنے ایسے انداز میں پیش کیا کہ وہ گورنر صاحب بڑے خوش ہوئے اور انہوں نے ہماری پیش کش کو جو دراصل انہی کے فائدے کے لئے تھی قبول کر لیا اور اب جو رپورٹیں مجھے موصول ہو چکی ہیں ان کے مطابق انہوں نے ہمارے سکولوں کے لئے ۴۰،۴۰ ایکڑ زمین بھی دے دی ہے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذلِكَ - غرض یہ بعد جو افسر اور ماتحت کا ہمیں یہاں نظر آتا ہے وہ مغربی افریقہ کی ان اقوام میں مجھے نظر نہیں آیا۔ہم جب Reception ( ریسپشن) میں جاتے تھے تو وزراء اور کمشنر زیاڈی سی وہ مختلف نام استعمال کرتے ہیں ) آپس میں اس طرح گھلے ملے ہوتے تھے کہ آپ پتہ نہیں کر سکتے تھے کہ کون منسٹر ہے اور کون چھوٹا افسر ہے۔وزراء کے علاوہ ہر دفعہ وہاں کے Ambassadors (سفیر ) بھی ہوتے تھے۔بڑے بڑے امیر بھی ہوتے تھے، بڑے اثر ورسوخ والے سیاسی لیڈر بھی ہوتے تھے اور سب وہاں اس طرح گھوم رہے ہوتے تھے کہ کسی آدمی کو جو باہر سے گیا ہو یا ذاتی طور پر ان سے واقف نہ ہو یہ معلوم نہیں ہوسکتا تھا کہ یہ وزیر صاحب ہیں اور یہ حکومت کا ایک معمولی افسر ہے یا یہ اس ملک کا ایک معمولی دکاندار ہے۔دوسری چیز جو مجھے وہاں نمایاں طور پر نظر آئی وہ یہ ہے کہ جو بعد امیر اور غریب میں ہمیں یہاں نظر آتا ہے وہاں نظر نہیں آتا۔ایک تو بظاہر لباس کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں۔جہاں تک