خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 81
خطبات ناصر جلد سوم ΔΙ خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۷۰ء لے جاتی ہے اور اس حرکت سے وہ اسے قوام کی شکل دیتی ہے پھر اپنے Enzymes (انزائمز ) بیچ میں ملاتی ہے تب جا کر وہ شہد بنتا ہے تب ہمیں وہ شہر ملتا ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر کر کے شہد کے چھوٹے سے حصہ کو چاہتے ہیں پورے احساس کے ساتھ کہ اگر یہ کام شہد کی مکھی کی بجائے انسان کے سپرد ہوتا تو شاید لاکھ دولاکھ روپے کا ایک سیر شہد ملا کرتا اور یہ بات ایک عام انسان کی طاقت سے باہر ہوتی ہاں شیطان انسان جو ہے اس کی طاقت کے اندر ہوتی۔پس اصل مشاورت کا مخرج شَارَ الْعَسُل کا جو عربی میں محاورہ ہے اس میں شوریٰ کا جو لفظ ہے وہ ہے اور اس سے پھر آگے مشاورت نکالی اور مشورہ اور شوریٰ کا مضمون اس مثال سے بہت واضح ہو جاتا ہے یعنی جو مضمون یہاں بیان ہوا اگر یہ مضمون سامنے نہ ہو تو بہت سے پہلومخفی رہ جائیں۔اس میں ایک تو یہ آ گیا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا کہ کن پھولوں کا شہد یا کن انسانوں کی آراء طلب کرنی ہیں یہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے نائبین کا کام ہے پھول کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ مکھی کو یہ کہے کہ تم گلاب کے پھول پر کیوں جا رہی ہو جب کہ تم سے زیادہ قریب شیشم کا پھول موجود ہے یہ پھول کا کام ہی نہیں اور نہ اس کو اللہ تعالیٰ نے یہ طاقت دی ہے یہ مشاورت کرنے والے مشورہ لینے والے کا کام ہے کہ وہ کن لوگوں سے مشورہ لے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مختلف شکلیں ہمیں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آتی ہیں۔آپ کے بعض ایسے مشیر بھی تھے کہ مجھے یہ شبہ ہے میری طبیعت پر یہ اثر ہے کہ شاید تاریخ نے بھی ان سب کے نام محفوظ نہیں رکھے کیونکہ آپ ان کو خفیہ طور پر بلا لیتے تھے اور جس معاملے کے متعلق مشورہ لینا ہوتا آپ ان سے مشورہ لے لیا کرتے تھے بعض کے نام آئے ہیں اس سے ہمیں پتہ لگ گیا کہ اس طرح بھی آپ مشورہ لیتے تھے اور بعض دفعہ آپ سب کو جمع کر لیتے تھے بعض دفعہ نمائندے آجاتے تھے اور آپ کی یہ سنت تھی اور خلفائے راشدین کی بھی یہ سنت تھی اس وقت بھی یہ سنت تھی جس زمانے میں بھی یہ رہی ہے کہ نمائندگی کے طور پر ساری جماعت تو یہاں اکٹھی نہیں ہوسکتی۔زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ مشورہ کے لئے ربوہ کے مکینوں کو اکٹھا کر لیا جائے چونکہ جماعت