خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 80 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 80

خطبات ناصر جلد سوم ۸۰ خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۷۰ء اس شَارَ الْعَسْلَ کے معنے ہوتے ہیں اسْتَخْرَجَهُ وَاجْتَنَاهُ جس طرح لکھی کا جو کام ہے نا پھول سے اپنی مرضی کے مطابق وہ چیز حاصل کرنا جس سے لکھی نے شہد بنانا ہے یعنی Nectar (نیکٹر ) جو پھول سے لیتی ہے۔شہد کی مکھی کے بارے میں اب جونئی تحقیق ہوئی ہے اس سے یہ پتہ لگتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ایک پھول کا انتخاب کرتی ہے اور پھر اسی پھول سے وہ شہد بناتی رہتی ہے یعنی پھول کا ایک حصہ لیتی ہے اور اپنے جسم کا ایک حصہ اس میں داخل کرتی ہے اس طرح پر شہد بنتا ہے۔بہت سے دوستوں کو اس کا علم نہیں وہ سمجھتے ہیں کہ شہد صرف پھولوں کے رس سے بنتا ہے۔یہ درست نہیں ہے شہد میں قریباً پچاس فیصد پھول کے رس کا حصہ ہے اور قریباً پچاس فیصد مکھی کے اپنے غدود میں سے ایک چیز نکلتی ہے مختلف قسم کے Enzymes ( انزائمز ) اور مختلف قسم کی دوسری چیزیں وہ شہر میں ملاتی ہے یعنی وہ جو پھول کا حصہ ہے اس کے اندر ملاتی ہے تب جا کر شہد بنتا ہے۔پس دونوں برابر کے حصے جارہے ہیں جہاں تک اس کے معنے کا سوال ہے لیکن جہاں تک محنت اور کوشش کا سوال ہے حقیقت یہی ہے کہ پھول نے شہد بنانے کے لئے کوشش نہیں کی کبھی پھول نے بھی جا کر اپنے شہد کوکھیوں کے چھتے تک پہنچا یا ہے شہد کی مکھی جو ہے اس کی ساری کوشش شہد بنانے کی ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق وہ اپنے اس کام میں لگی ہوتی ہے۔جن لوگوں نے شہد کی مکھیوں اور ان کے چھتوں پر تحقیق کی ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ شہد کی مکھی کے چھتے کے نیچے کبھی کوئی مردہ کبھی نہیں ملے گی اور وہ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ کام کرتے ہوئے کبھی پھول کے قریب کبھی پھول اور اپنے چھتے کے درمیان مرکز گر جاتی ہے یعنی وہ اپنے کام کے لحاظ سے ایک قسم کی شہید ہی ہے کام کے اندر اس کی جان نکلتی ہے وہ آخری سانس تک کام کرتی رہتی ہے۔مکھی پھول کے اندر سے اپنی مرضی سے انتخاب کر کے وہ حصہ جسے انگریزی میں Nectar (نیکٹر ) کہتے ہیں تھوڑا سا پتلا مایہ ہوتا ہے جو شہد کی طرح کا قوام نہیں رکھتا بلکہ شہد کی نسبت پھول میں اس چیز کی حالت پانی کے زیادہ قریب ہے لیکن مکھی پھر اسے وہاں سے لے کر آتی ہے پھر اس کو اپنی زبان پر رکھ کر خشک کرتی ہے اور ہزاروں لاکھوں دفعہ زبان باہر نکال کر اندرمنہ میں