خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 58 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 58

خطبات ناصر جلد سوم ۵۸ خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۷۰ء طرف سے بڑی چالا کی کی ہوئی تھی کہ میں پتہ غلط لکھ رہا ہوں۔جب میں نے پتہ لیا تو معلوم ہوا کہ وہ ایف۔اے کا پرائیویٹ امتحان دے رہا ہے پھر میں سمجھا کہ یہ ایک ایسا شخص ہے جس کی تربیت کی طرف کوئی ادارہ توجہ نہیں کر رہا کالج کا یہ طالب علم نہیں ، ان کے ضبط و نظم سے باہر ہے اور خدام الاحمدیہ سے بھی اسی طرح چھپا پھرتا ہے کیونکہ بعض باتیں اور بھی پتہ لگ گئیں لیکن یہ تو ایک مثال تھی جس نے یہ توجہ دلائی کہ ایک سلسلہ، ایک نظیر ایسے طالب علموں کی ہے جو پرائیویٹ امتحان دیتے ہیں اور اس وجہ سے کالج کے ڈسپلن اور ضبط سے بھی باہر ہیں اور دوسری تنظیموں سے بھی چھپتے رہتے ہیں۔اس واسطے نظارت تعلیم کو یہ آرڈر دینا چاہیے کہ تعلیم الاسلام کا لج کسی ایسے لڑکے کے داخلے کے فارم پر جو پرائیویٹ امتحان دے رہا ہے دستخط نہیں کرے گا جب تک یہ تسلی نہ کر لے کہ اخلاقی لحاظ سے اور تعلیمی لحاظ سے وہ لڑکا ایک خاص معیار سے نیچے نہیں ہے۔یہ صیح ہے کہ تعلیمی لحاظ سے شاید وہ اتنا اچھا نہ ہو بعض اچھے بھی ہوتے ہیں لیکن اخلاقی لحاظ سے تو وہ بہر حال گرا ہوا نہیں ہونا چاہیے اس کے بغیر ان کو اجازت نہیں دینی چاہیے ورنہ اب میرے خیال میں اس وقت کوئی تیس چالیس لڑ کے ایسے ہوں گے یا اس سے بھی زیادہ اگر لڑکے لڑکیاں ملالی جائیں تو ساٹھ ستر ہوں گے جو پرائیویٹ امتحان دیتے ہیں کیوں دیتے ہیں؟ پس کوئی تو اُن کے اوپر نگرانی ہونی چاہیے کہ اگر انہوں نے یہاں امتحان دینا ہے یہاں کی فضا سے فائدہ اٹھانا ہے یہاں کے سنٹر کے بھی جو امتحان کے لئے بنتا ہے بڑے فائدے ہیں یہاں نہ شور ہے اور نہ ہنگامہ ہے ایک طالب علم آرام سے یہاں امتحان دے دیتا ہے۔باہر کے سنٹرز میں ایسی پرسکون فضا نہیں ہوتی پس ہمارے کالج کو چاہیے کہ اپنا معیار اس لحاظ سے بھی قائم رکھے وہاں کی فضا، وہاں کا دیانتداری کا ماحول کہ ہر شخص اپنے علم کے مطابق جواب دے اور امتحان کے ہال میں کسی دوسری مدد کی طرف اس کا ذہن ہی نہ جائے ایسا ماحول ہونا چاہیے۔پس یہ ساری چیزیں فوری طور پر گرفت کے اندر آنی چاہئیں نظارت تعلیم اگر اس طرف