خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 57 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 57

خطبات ناصر جلد سوم ۵۷ خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۷۰ء کہ سوائے حادثہ کے سو فیصدی نتیجہ نکلنا چاہیے۔حادثات اس زندگی کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اس میں شک نہیں لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ حادثے کے علاوہ اگر سو فیصد نتیجہ نہیں تو پھر وہ صحیح محنت نہیں ہے۔کوئی وجہ نہیں ہے کہ کوئی طالب علم فیل ہوا گر کوئی ایسا طالب علم ہے جو پڑھنے کے قابل ہی نہیں تو آپ اس کے ماں باپ کا روپیہ کیوں ضائع کروا ر ہے ہیں؟ اس کو یہاں سے فارغ کر دیں اس مشورہ کے ساتھ کہ پڑھنے کی بجائے کوئی اور کام کرو لیکن جس کے متعلق آپ یہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ اس قابل ہے کہ پڑھے اور پاس ہو وہ اگر پاس نہ ہو تو آپ کا فعل آپ کے قول کے خلاف ہو گا اور جماعت آپ سے گرفت کرے گی۔تعلیم الاسلام ہائی سکول اور زنانہ سکول اور کالج تعلیم اور نتائج کے لحاظ سے شاید اتنے بڑے نہیں لیکن تربیت کے لحاظ سے انہیں بھی اور توجہ دینے کی ضرورت ہے یہ صحیح ہے کہ ربوہ کا ما حول خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑا اچھا ہے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ ہم اس ماحول میں یا اس ماحول کے روشن اور منور چہرہ پر سیاہی کا ایک بار یک نقطہ بھی برداشت نہیں کر سکتے اگر ایک آدمی یا ایک بچہ بھی ایسا ہے جس کی صحیح تربیت نہیں تو ہمیں غصہ بھی آئے گا ہمیں فکر بھی پیدا ہو گی ہم اپنی عقل اور سمجھ کے مطابق اصلاح کے لئے کارروائی بھی کریں گے۔تعلیمی اداروں کے ساتھ یہاں ایک اور ایسی دم بھی لگ گئی ہے کہ بعض دفعہ وہ بھی فکر پیدا کرتی ہے اور وہ وہ پرائیویٹ طلباء ہیں جو تعلیمی ادارے میں داخل نہیں ہوتے لیکن یہاں وہ یا تو اساتذہ کی ٹیوشن لیتے ہیں یا ان کو کوئی اور سہولت ہوتی ہے اور کالج کے ڈسپلن اور ضبط سے بھی وہ باہر ہوتے ہیں اور عام طور پر وہ خدام الاحمدیہ سے بھی چھپے رہتے ہیں اور ان کی صحیح تربیت نہیں ہو سکتی۔ابھی چند دن ہوئے ایک شخص کا دعا کے لئے میرے پاس خط آیا اور اس نے اپنا جو پتہ درج کیا تھا ( یہیں ربوہ کا رہنے والا ہے ) وہ غلط تھا اور اس میں چالا کی کی ہوئی تھی۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں سمجھ دی ہے پھر اللہ تعالیٰ تو اس طرح بھی فضل کرتا ہے کہ اسی دن مغرب کے بعد اس شخص کے متعلق مجھے رپورٹ ملی کہ یہ فلاں جگہ رہتا ہے اور یہ اس کے حالات ہیں اور عشاء کے بعد جب میں اپنی ڈاک دیکھ رہا تھا تو اس میں اسی کا خط اور پتہ کوئی اور لکھا ہوا تھا اور اس شخص نے اپنی