خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 568 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 568

خطبات ناصر جلد سوم ۵۶۸ خطبہ جمعہ ۳۱ دسمبر ۱۹۷۱ء سے گذر رہا ہے۔ہمارے دلوں میں اپنے ملک کے لئے جو محبت ہے یہ وہی محبت ہے جس پر حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مہر لگائی ہے۔حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ یعنی وطن کی محبت ایمان کا ایک جزو ہے۔یہ وہ صادق محبت ہے۔یہ وہ گنا ہوں سے پاک محبت ہے، یہ وہ دُکھ دینے کے خیالات سے مطہر محبت ہے۔یہ وہ محبت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اقتدا اور آپ کے اس ارشاد کی تعمیل میں ہمارے دلوں میں پیدا کی گئی ہے اور یہی وہ محبت ہے جو ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ اگر ہمیں اپنی جانیں بھی دینی پڑیں تو ہم دریغ نہیں کریں گے لیکن اپنے ملک کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔خواہ ہمیں ہرطرف سے بُرا بھلا ہی کیوں نہ کہا جائے اور صرف اپنے اس ملک کا ہی سوال نہیں ہمارے سپر د جو ہم ہوئی ہے اس کا یہ ایک چھوٹا ساحصہ ہے اور ہمارے سپر د تو یہ ہم ہوئی ہے کہ ہم ساری دنیا میں اسلام کے غلبہ کا انتظام کریں اور اس سلسلہ میں جانی اور مالی قربانیاں دیں۔اس میں شک نہیں کہ یہ حقیر سی قربانیاں ہیں مگر انتہائی قربانی جو ہماری طاقت اور استعداد میں ہے وہ ہم نے پیش کرنی ہے مثلاً جس شخص کی طاقت اور استعداد میں ایک اٹھتنی دینا ہے اب اس کے متعلق دنیا داروں کی آنکھ تو یہ دیکھتی ہے کہ آٹھ آنے کی ایک حقیر سی قربانی اس نے پیش کر دی ہے مگر خدا تعالیٰ کی آنکھ اسے ایک اور زاویہ سے دیکھتی ہے۔خدا تعالیٰ تو یہ دیکھتا ہے کہ اس نے اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق اپنی طرف سے انتہائی قربانی دے دی چنانچہ جب خدا تعالیٰ کے حضور پورے خلوص کے ساتھ اور نیک نیتی کے ساتھ اور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ انتہائی قربانی پیش کر دی جاتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ کی رحمت اپنے جلوے دکھاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اُن قربانیوں کو قبول فرما لیتا ہے۔آج ہمارا ملک ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اے میرے بچو! اے کرۂ ارض کے اس حصے میں رہنے والو!! میری مضبوطی اور استحکام اور بقاء کے لئے اپنی انتہائی قربانیاں پیش کرو۔دنیا ہمیں جو مرضی کہتی رہے۔حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ “ کے ارشاد کے مطابق ہمیں آج اپنے 66