خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 569 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 569

خطبات ناصر جلد سوم ۵۶۹ خطبہ جمعہ ۳۱ دسمبر ۱۹۷۱ء ملک کے لئے ہر قسم کی قربانیاں دے دینی چاہئیں مگر یہ وہ انتہائی قربانیاں ہونی چاہئیں جو خدا تعالیٰ کو پیاری اور محبوب بھی ہوں اور جن کے بعد اُس قدرتوں کے مالک اور صاحب عزت خدا کے قادرانہ ہاتھ سے نتائج بھی نکلا کرتے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ تو ہمارے کام کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ہم نے تو اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنا ہے اور ہم نے تو ساری دنیا کو اندھیروں سے نکالنے کے لئے دعائیں کرنی ہیں اور ساری دنیا کے دلوں میں سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو گاڑنے کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور انتہائی قربانیاں پیش کر دینی ہیں۔اگر خدانخواستہ راہ کے یہ کانٹے ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ لیں ، تو ہم نا کام ہو گئے۔پس دوستوں کو چاہیے کہ وہ ان تکلیفوں کی طرف توجہ نہ کریں۔ہم نا کام ہونے کے لئے پیدا ہی نہیں کئے گئے کیونکہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ علیہ السلام نے اپنی زندگی میں اور ایک لمبا عرصہ پہلے یہ اعلان فرمایا تھا کہ ہماری فطرت میں ناکامی کا خمیر نہیں ہے گو اُس وقت تو حالات بڑے مختلف تھے۔اب تو دنیا بدل گئی ہے۔پاکستان تو کیا ساری دنیا میں جماعت کو جو وقار حاصل ہوا ہے اور لوگوں کے دلوں میں جماعت کے لئے جو محبت اور پیار پیدا کیا گیا ہے آپ اس کو تختیل میں بھی نہیں لا سکتے۔غرض زمین و آسمان بدل گئے ہیں۔کہا گیا تھا کہ سید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اس مادی اور گنہگار اور گندی دنیا میں ایسے حالات پیدا کئے جائیں گے کہ زمین یہ زمین نہیں رہے گی اور آسمان یہ آسمان نہیں رہے گا۔یہ تبدیلی ، یہ انقلاب تو پیدا ہورہا ہے اور انشاء اللہ اپنے ارتقاء کی انتہاء کو پہنچے گا، اس لئے ہم نے ایسی باتوں کی بالکل پرواہ نہیں کرنی جو بظاہر تکلیف دہ معلوم ہوتی ہیں اور نہ جوش میں آنا ہے اور نہ کسی سے کوئی مطالبہ کرنا ہے اور نہ کسی سے جا کر شکائتیں کرنی ہیں۔پس ان چیزوں سے بے نیاز ہو کر تمہارے سپر د جو کام ہے اُسے تم پوری توجہ اور پورے انہماک کے ساتھ اور اپنی قوتوں اور استعدادوں کو ان کی انتہاء تک پہنچاتے ہوئے کرتے چلے