خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 548
خطبات ناصر جلد سوم ۵۴۸ خطبہ جمعہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۷۱ء کے موقع پر پیدا ہوئے تھے یا اُس سے ملتے جلتے حالات ، جن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بعد میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں، اُس وقت ایک کامل مومن اور ایک کمزور ایمان والے اور منافق کے درمیان فرق یہ ہوتا ہے جو ظاہر ہو جاتا ہے کہ تَظُنُّونَ بِاللهِ الظُّنونا اور اللہ تعالیٰ پر اُن کا گمان دو مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہےاور اللہ تعالیٰ پر ان کا یقین دو مختلف صورتیں اختیار کرتا ہے۔منافق کا جو ایمان یا ایمان کی NEGATION ( نیکیشن یعنی ) نفی اور مومن کے ایمان کی پختگی مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے اور جس کی طرف تظنُّونَ بِاللهِ الظُّنُونَا میں اشارہ کیا گیا ہے۔دوسری بنیادی بات یہ بتائی گئی ہے کہ منافق کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ( معاذ اللہ ) جھوٹے وعدے کئے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے تَظُنُّونَ بِاللهِ الظُّنُون میں جو بنیادی بات بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ منافق کا خدا تعالیٰ پر یقین یا اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا خیال یا اس کے وعدوں کے متعلق یا اس کی قدرتوں کے متعلق یا اس کی صفات کے متعلق اس کا ایمان ایک مومن کے ایمان سے بہت مختلف ہوتا ہے۔جو منافق ہے وہ ابتلاء کے وقت یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (نعوذ باللہ ) جھوٹا وعدہ کیا ہے۔وہ یہ تو تسلیم کرتا ہے کہ کوئی پیشگوئی کی گئی تھی یا کوئی وعدہ کیا گیا تھا لیکن جب ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں کہ دُنیوی لحاظ سے بظاہر کامیابی اور بقاء اور استحکام کا کوئی امکان نظر نہیں آتا تو منافق کہہ دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ جھوٹا ہے۔تمہیں اس نے وعدے تو کچھ اور دیئے مگر آج کچھ اور نظر آ رہا ہے لیکن مومن ایسا نہیں ہوتا۔اُس کے اظہار ایمان کے گو مختلف رنگ ہوتے ہیں۔تا ہم ایسے حالات میں مومن تو یہ کہتا ہے ( جیسا کہ بعد کی آیات میں ذکر کیا گیا ہے ) کہ جو خدا تعالیٰ نے وعدہ دیا ہے وہ ضرور پورا ہو گا۔مومن ابتلاء کا احساس رکھتے ہوئے اس کا مشاہدہ کرتے ہوئے اور اس کے باوجود کہ شکنجے میں وہ اپنے آپ کو جکڑا ہوا پاتا ہے کہتا ہے کہ جس خدا نے ہمیں یہ فرمایا تھا کہ اس قسم کے پریشان کن حالات پیدا ہوں گے اسی نے یہ کہا تھا کہ میں ان پریشان کن حالات میں تمہیں کامیاب کروں گا اور تمہیں نجات دوں گا۔اس واسطے پہلی بات جب پوری ہوئی تو دوسری بھی پوری ہوگی۔