خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 42
خطبات ناصر جلد سوم ۴۲ خطبہ جمعہ ۶ رفروری ۱۹۷۰ء کسی مالدار کی طرف دوڑیں۔ضرورت کے وقت ہم کسی ہوشیار سازشی آدمی کی طرف دوڑیں ضرورت کے وقت ہم کسی سفارش کی طرف دوڑیں۔ضرورت کے وقت ہم رشوت کی طرف دوڑیں اور اس کے ساتھ یہ کہیں کہ ہم اس اللہ پر ایمان لاتے ہیں جسے قرآن کریم نے غنی کہا کہ وہ کسی کا محتاج نہیں اور سارے اس کے محتاج ہیں اور جس کو صمد کہا ہے تو یہ دعویٰ غلط ہو گا پس ایمان باللہ کا کیا مفہوم ہے؟ قرآن کریم کی اصطلاح میں یہ ہمیں پتہ لگنا چاہیے ورنہ محض یہ کہنا کہ ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں محض یہ کہنا کہ اَشْهَدُ اَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ یہ ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ جس شخص نے یہ کہا کہ اللہ ایک ہے وہ جنت میں چلا گیا تو اس کا یہ مفہوم نہیں تھا کہ اگر مارگولیتھ یا کسی اور مستشرق معاند اسلام نے کتاب پڑھتے ہوئے اَشْهَدُ اَنْ لا إِلَهَ إِلَّا الله کہہ دیا تو وہ جنت میں چلا گیا بلکہ مطلب یہ تھا کہ جو شخص یہ گواہی دیتا ہے اپنے دل سے بھی اور اپنی زبان سے بھی اور جوارح سے بھی کہ میں اس اللہ کو اس طور پر مانتا ہوں جس طور پر اور جس طریقے پر اللہ کو قرآن کریم نے ہمارے سامنے پیش کیا ہے تو وہ جنت میں چلا گیا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ پھر وہ جنت ہی میں گیا کیونکہ پھر تو اس کی اپنی زندگی کوئی نہ رہی پھر تو اللہ کے در پر بیٹھا اور اپنا سب کچھ دُنیوی اموال بھی اور اپنا نفس بھی اس کے حضور پیش کر دیا اور وہ خالی ہاتھ ہو گیا اور اس نے اپنے رب کو کہا کہ اے خدا! تیری رضا کے لئے میں اپنا سب کچھ چھوڑتا ہوں اور تو میری رُوح کو اپنی محبت اور پیار سے بھر دے۔پھر وہ اللہ کو ماننے والا بھی ہوا اور اُسی کے لئے اَعْظَمُ دَرَجَةً “ بھی کہا جا سکتا ہے۔محض یہ کہنا کہ ہم آخرت پر ایمان لائے ہیں کافی نہیں۔ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آخرت کا کیا مفہوم قرآن کریم نے ہمارے سامنے رکھا ہے۔اس پر ہمارے لئے ایمان لانا ضروری ہے محض یہ کہ دینا کہ ہم رسل پر ایمان لائے ہیں یہ کافی نہیں ہے کیونکہ بے چارے معصوم رسل تو ایسے بھی تھے جن پر ہر قسم کی تہمت ان کے اپنے ماننے والوں نے لگادی پس ان اشیاء پر ، ان تہمتوں پر، ان الزاموں پر ، اس افتراء پر ہمارے لئے ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔رُسل پر اس معنی میں ایمان لانا ضروری ہے جو قرآن نے ہمارے سامنے رکھا ہے ان کی وحی پر اس معنی میں ایمان لانا ضروری ہے