خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 41 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 41

خطبات ناصر جلد سوم ۴۱ خطبہ جمعہ ۶ رفروری ۱۹۷۰ء یہاں یہ حکم دیا گیا ہے کہ آخرت پر ایمان لانا ضروری ہے یہ میں آگے جا کر بتاؤں گا کہ یوم آخر اور آخرت میں کوئی فرق ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کیا ہے اگر نہیں تو پھر کیوں دو مختلف طریقوں پر ان کو استعمال کیا گیا ہے؟ غرض جب اللہ تعالیٰ نے الَّذِینَ آمَنُوا کہا تو پہلا مطالبہ یہ کیا کہ وہ لوگ جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں وہ لوگ جو یوم آخر پر ایمان لاتے ہیں وہ لوگ جو ملائکہ پر ایمان لاتے ہیں۔وہ لوگ جو الکتاب پر ایمان لاتے ہیں۔وہ لوگ جو انبیاء پر ایمان لاتے ہیں وہ لوگ جو کتب سماوی پر ایمان لاتے ہیں ان کے لئے اسی طرح غیب پر ایمان لانا اور اسی طرح آخرت پر ایمان لانا اسی طرح بایت اللہ ایمان لانا بھی واجب قرار دیا گیا ہے۔پس امنوا میں یہ ساری چیز میں آجائیں گی۔اب جو چیز میرے نزدیک سمجھنی اور یا درکھنی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ محض زبان سے یہ کہہ دینا کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے یہ کافی نہیں ہے یا محض یہ کہہ دینا کہ ہم یومِ آخر پر ایمان لاتے ہیں یا آخرت پر ایمان لاتے ہیں یہ کافی نہیں ہے۔محض یہ کہہ دینا کہ ہم تمام رسل پر ایمان لاتے ہیں کافی نہیں ہے محض یہ کہہ دینا کہ ہم اُن تمام رسل پر جو اللہ تعالیٰ کی وحی نازل ہوتی ہے اُس پر ایمان لاتے ہیں یہ کافی نہیں ہے محض یہ کہ دینا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہم ایمان لاتے ہیں ( یعنی صرف زبان کا اقرار ) یہ کافی نہیں ہے محض یہ کہہ دینا کہ قرآن عظیم پر ہم ایمان رکھتے ہیں یہ کافی نہیں ہے محض یہ کہہ دینا کہ غیب پر ہم ایمان لاتے ہیں یہ کافی نہیں ہے محض یہ کہہ دینا کہ آیات اللہ پر ہم ایمان رکھتے ہیں کافی نہیں ہے تو پھر کیا تقاضا ہم سے کیا گیا ہے؟ مطالبہ ہم سے کیا ہے؟ یہ سوال ہوتا ہے میں نے بتایا ہے کہ محض زبان کا اقرار کافی نہیں اللہ پر ، ایمان تب مقبول ہوتا ہے جب اللہ پر ہم وہ ایمان لائیں جس کا قرآن کریم ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم ایمان لائیں کہ اللہ وہ ہے۔اللہ وہ ہے۔اگر ہم اللہ کو ایک ایسی ہستی سمجھیں کہ ساری احتیاجیں اور ضرورتیں صرف اس تک لے کر جانی چاہئیں جیسا کہ قرآن کریم نے کہا ہے تو یہ کافی ہو جائے گا، ایک حصہ اس کا لیکن اگر ہم کہیں تو یہ کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں لیکن ضرورت کے وقت ہم قبر کی طرف دوڑیں ضرورت کے وقت ہم کسی صاحب اقتدار کی طرف دوڑیں ضرورت کے وقت ہم