خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 520 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 520

خطبات ناصر جلد سوم ۵۲۰ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء وقت خدا تعالیٰ نے مجھے اس سوال کا جواب سکھایا۔میں نے اس سے کہا کہ جتنا عرصہ حضرت مسیح علیہ السلام اس دنیا میں رہے اور اس عرصہ کی تعیین میں میرا اور تمہارا اختلاف ہوسکتا ہے لیکن جتنا عرصہ بھی وہ اس دنیا میں رہے ساری عمر میں انہوں نے جتنے عیسائی بنائے تھے اس سے زیادہ ہم تمہارے ملک میں مسلمان بنا چکے ہیں۔اس پر وہ ایسا خاموش ہوا کہ پھر اس نے مجھ سے سوال کرنا ہی چھوڑ دیا حالانکہ میں نے کہا بھی کہ اور سوال کرو میری دلچسپی قائم ہے۔اب یہ کہ اچانک سوال ہوا اور پھر یہ جواب آجائے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔بعض دفعہ پتہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ کیا جواب دے رہا ہوں ، دماغ جواب دے رہا ہوتا تھا اور انسان الْحَمدُ لِلہ پڑھ رہا ہوتا تھا۔پس در اصل حقیقی علم کا منبع اور سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس منبع سے یہ کتاب (یعنی قرآن کریم ) اس دعوے کے ساتھ نازل کی گئی ہے کہ یہ قیامت تک کے مسائل کو حل کرے گی۔اس نے قیامت تک کے مسائل کو حل کر دیا ہے۔ہمیں اس پر بھی ایمان لانا چاہیے۔اب لوگ اس حقیقت کے بھی قائل ہورہے ہیں البتہ جو بھٹکتے ہیں وہ کہاں مانتے ہیں دراصل آج کل کے عقلمند نے اس دنیا کو مصیبت میں ڈالا ہوا ہے جتنا آج کا عظمند خود کو دنیا کی نگاہ میں ملعون بنا چکا ہے کسی زمانہ میں بھی عقلمند پر خود انسان نے اتنی لعنت کبھی نہیں بھیجی۔یہ عجیب عقلمندی ہے اور تہذیب میں ترقی ہے کہ جس کی وجہ سے انسانیت کی جان خطرے میں پڑ گئی ہے۔اس سے پہلے تو پانچ انسانوں کی جان خطرے میں ہوتی تھی یا پانچ ہزار انسانوں کی جان خطرے میں ہوتی تھی یا پانچ لاکھ انسانوں کی جان خطرے میں ہوتی تھی یا پانچ ملین انسانوں کی جان خطرے میں ہوتی تھی مگر اب تہذیب میں کیا آگے بڑھے کہ تمام بنی نوع انسان کی جان خطرے میں ہے اتنی عقل تیز ہوئی اس عقل پر لعنت ہے جس کی تیزی نے اس دنیا میں انسانیت کو مٹانے کی سکیمیں بنالی ہیں لیکن جہالت ،سفاہت اور حمق کے مقابلے کے لئے جو علم اور فراست اور ظلمات کو دور کرنے کے لئے نور قرآن کریم سے حاصل کیا جاسکتا ہے، وہ حقیقی بھی ہے اور نہ ختم ہونے والا بھی ہے۔کسی وقت بھی یہ خطرہ نہیں کہ عقل آگے بڑھ گئی اور اب انسان کو وحی والہام کی ضرورت نہیں رہی۔کئی فلسفی لوگ ہیں جن میں سے بعض نے مسلمانوں کو بھی بڑا متاثر کیا ہے لیکن ہم ایسی ہزار ہا مثالیں دے سکتے ہیں کہ جہاں عقل