خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 517 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 517

خطبات ناصر جلد سوم ۵۱۷ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء فطرت بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور انسانی فطرت کو نیک اور بد میں تمیز کرنے کی توفیق بھی اُسی نے عطا فرمائی ہے۔انسانی فطرت ( اور اس سے میری مراد وہ فطرت ہے جو سخ نہ ہو چکی ہو ) کسی چیز کو بد قرار نہیں دے گی جسے شریعت محمدیہ نے برقرار نہ دیا ہو اور انسانی فطرت کسی چیز کو نیکی اور بھلائی اور ثواب کا موجب قرار نہیں دے گی کہ جس کا حکم شریعت محمدیہ میں نہ ہو کیونکہ خود قرآن کریم فرماتا ہے:۔فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا “ (الروم : ٣١) خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت کو پیدا کیا ہے یہ اس کا عمل ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ایک کامل شریعت کے رنگ میں اپنی وحی کے ذریعہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے اور یہ اس کا قول ہے اور اللہ تعالیٰ کے فعل اور اس کے قول میں تضاد نہیں ہوا کرتا۔پس فطرت جن چیزوں کو نیکی کی باتیں قرار دیتی ہے، انہیں باتوں کا قرآن کریم حکم دیتا ہے۔اس واسطے اٹھ“ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ یہ خوف پیدا ہوتا ہے کہ کہیں فطرت کا وحی کے ساتھ تصادم نہ ہو جائے۔اس قسم کا کوئی خوف نہیں ہوتا کیونکہ جس خدا نے فطرت کو پیدا کیا ہے اُسی نے وحی کو نازل فرمایا ہے اسی واسطے مومنوں کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے کہ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (ال عمران : ۱۰۵) رهَق کے دوسرے معنے خِفَّةُ الْعَقْلِ کے ہیں جس کا مطلب یہ ہے ان کو کم عقلی کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔یعنی قرآن کریم نے یہ اعلان کیا ہے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ گے تو علاوہ اور بہت سے روحانی فوائد کے تمہیں ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ تمہاری عقلوں کو جلا ملے گی نیز الہام کے بغیر عقل کو جلا نہیں مل سکتی اور پھر الہام اور وحی بھی وہ جو کامل شکل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے کامل وجود پر نازل ہوئی اور جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔غرض فَلَا يَخَافُ رَهَقًا میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :- کہ انسان کو کم عقلی کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔اگر وہ قرآن کریم پر غور کرے گا،فکر کرے گا اور