خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 513 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 513

خطبات ناصر جلد سوم ۵۱۳ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء سے ملا ہے اگر خدا تعالیٰ کی نگاہ میں کوئی شخص مغضوب اور ملعون اور دھتکارا ہوا ہو تو دنیا کی طاقتیں اُسے حقیقی عزت نہیں پہنچا سکتیں یہ تو ایک دھوکا ہے، سراب ہے۔کئی لوگ بہک جاتے ہیں کئی بچ جاتے ہیں لیکن بہر حال حقیقی عزت اور تعریف کا استحقاق خدا تعالیٰ کی محبت اور پیار اور رحمت کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے ورنہ حمد کا اور تعریف کا استحقاق پیدا ہی نہیں ہوتا۔سب دھوکا اور سراب ہے۔اس لئے فرمایا کہ جو شخص بھی اپنے رب پر ایمان لاتا ہے۔فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَ لَا رَهَقًا 66 (الجن : ۱۴) اس کو نہ بخس کا کوئی خوف رہتا ہے اور نہ رھق کا کوئی خوف رہتا ہے۔بخس کے معنے ہیں ظلم کر کے کسی کو نقصان پہنچانا مگر جو شخص مومن ہوتا ہے اس کو یہ خوف نہیں ہوتا کہ اس کے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور جس طرح دوسرے مذاہب کا عقیدہ ہے کہ ایک دفعہ جنت میں لے جائے جانے کے بعد پھر جنت سے نکال دیا جائے گا۔شریعت محمدیہ پر ایمان لانے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے نتیجہ میں وہ جنت نہیں ملتی جس سے انسان نکالا جاتا اور دھتکار دیا جاتا ہے اور اُسے یہ کہا جاتا ہے کہ پھر از سر نو کوشش کرو اگر تم مستحق ٹھہرے تو تمہیں جنت مل جائے گی۔پس اگر عارضی جنت کا عقیدہ درست ہو تو پھر یہ بخا ہے۔انسانی فطرت یہ کہتی ہے کہ اُس پر ظلم ہو گیا کیونکہ انسان کی طاقتیں محدود تھیں اور اُسے محدود زمانہ دیا گیا اگر تو غیر محدود زمانہ دیا جاتا تو پھر غیر محدود عمل ممکن ہوتے اور غیر محدود جنت ہو جاتی اور آپس میں CLASH ( کلیش) ہو جاتا کیونکہ دو غیر محدود تھے۔انہوں نے ایک دوسرے سے سر ٹکر ا دینے تھے۔جو عقلاً درست نہیں ہے مضمون دقیق ہے مگر جو سمجھنے والے ہیں وہ سمجھ جائیں گے دو غیر محدود ایک دوسرے کا نتیجہ نہیں ہو سکتے کیونکہ نتیجہ انتہاء ہوتا ہے۔غیر محدود ابتلاء اور امتحان کا زمانہ اور غیر محدود جزاء اور جنت۔یہ بات عقل میں نہیں آتی۔پس اگر غیر محدود جنتیں ہیں جن کی انتہاء کوئی نہیں تو عمل محدود ہی ہونے تھے اور جنت غیر محدود ہو گی ، رحمت الہی غیر محدود ہو گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔21/2012/99 رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ “ (الاعراف: ۱۵۷)