خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 512 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 512

خطبات ناصر جلد سوم ۵۱۲ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء رہے ہوتے ہیں۔یہ نہیں کہ جس نے روزہ نہیں رکھا ( درآنحالیکہ وہ مومن ہے اور اس کی نیت بھی ہے ) اُس نے روزے کا جسمانی اور ظاہری دُکھ نہیں اُٹھایا۔ایک ظاہری تکلیف تو ہے جو روزے دار خدا کی خاطر اُٹھاتے ہیں لیکن جو بیماری اور معذوری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا شاید اُس نے زیادہ دُکھ اُٹھایا اور اگر زیادہ اُٹھایا تو شاید وہ ثواب کا بھی زیادہ مستحق ہو گیا۔وَاللهُ أَعْلَمُ۔اللہ تعالیٰ ثواب دیتا ہے ہم تو اس کے او پر کوئی حکم نہیں لگا سکتے۔پس فرمایا کہ جو شخص دوسرے حصہ آیت میں بیان کردہ ایمان کے مطابق اپنے رب پر ایمان لا یا اور رب پر ایمان لانے کے مفہوم کے اندر حقیقتاً شریعت محمدیہ پر ایمان اور اللہ تعالیٰ کی تمام صفات پر ایمان اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان آجاتا ہے کیونکہ ربّ کے معنے ہیں پیدا کر کے درجہ بدرجہ اور تدریجا ترقی دینے والا یعنی وہ ہستی جونشو ونما دے کر انسان کو ترقی کے مدارج طے کرواتی ہے۔جیسا کہ بڑی وضاحت اور تشریح کے ساتھ دوسری جگہ بیان ہوا ہے کہ انسان کو روحانی طور پر ترقیات کی منازل میں سے گزار کر آدم ، پھر نوح ، پھر موسیٰ اور پھر سینکٹر وں اور جو شارع نبی ہوئے ہیں، علیہم السلام۔اُن کے زمانے میں انسان کی روحانیت درجہ بدرجہ ترقی کر رہی تھی۔بالآخر اللہ تعالیٰ انسان کو اس ترقی کے مقام پر لے آیا کہ وہ کامل اور مکمل شریعت کا حامل بن سکتا تھا۔ربوبیت کے معنی میں یہ بات آتی ہے کہ اگر انسان ترقی کرے ( اور عقل اور تاریخ کہتی ہے کہ انسانیت نے ترقی کی اور کسی ایک منزل پر جا کر آگے رہنمائی کے لئے اگر کوئی ٹور آسمان سے نازل نہ ہو، کوئی نئی شریعت نہ آئے کہ اس کے نئے تقاضوں کو اور بڑھی ہوئی طاقتوں اور ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہو تو گویا اس کو رب پر ایمان نہیں ہے۔وہ تو سمجھے گا کہ رب ہے ہی نہیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔غرض رب پر ایمان دراصل وہی ہے جس کا اَلْحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ میں ذکر کیا گیا ہے کہ ساری تعریف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتی ہے اور اسی سے ہر تعریف کا منبع پھوٹتا ہے۔انسان کی جب درست تعریف ہو تو اُسے سمجھنا چاہیے کہ اسے حمد کا جو مقام ملا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف