خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 511 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 511

خطبات ناصر جلد سوم ۵۱۱ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء ہے۔شریعت کے کسی حکم کا تعلق اس کی آنکھ سے ہے اور کسی کا تعلق اس کی زبان سے ہے جبکہ وہ بول رہی ہوتی ہے اور کسی حکم کا تعلق اس کی زبان سے ہے جبکہ وہ چکھ رہی ہوتی ہے مثلاً فرما یائؤر نہیں کھانا یا فرمایا کہ خون نہیں کھانا۔اب یہ اُس زبان سے تعلق نہیں رکھتا جو بول رہی ہوتی ہے بلکہ اس کا اُس زبان سے تعلق ہے جو چکھ رہی ہوتی ہے۔کسی حکم کا تعلق انسان کے کان سے ہے اور کسی حکم کا تعلق اس کے دماغ سے ہے یعنی کسی کے متعلق برائی سوچنی بھی نہیں۔یہ امر اس کے دماغ سے تعلق رکھتا ہے۔دماغ بھی جسم کا ایک حصہ ہے۔اسی طرح انسانی جسم کے مختلف حصوں مثلاً اس کی ٹانگوں پر، اس کے ہاتھوں پر یا اس کی انگلیوں پر شرعی احکام کا اطلاق ہوتا ہے۔انگلیوں کے متعلق مثلاً یہ حکم ہے کہ کوئی چیز تولتے وقت انگلی کو تھوڑ اسا خم دے کر کچھ واپس نہیں لے لینا اور یہ حکم دکانداروں کے لئے ہے۔کئی دکاندار ایسا گناہ بھی کر جاتے ہیں پھر انگلی کے ساتھ تعلق رکھنے والا ایک حکم یہ بھی ہے کہ کسی کے دل دُکھانے والی بات اپنی قلم سے نہیں لکھنی۔پس شریعت محمدیہ کے سارے احکام کامل اور مکمل طور پر انسان کے تمام اجزاء اور اس کے اعمال پر حاوی ہیں۔انسان کو یہ بتا دیا گیا ہے کہ یہ کرنا ہے اور یہ نہیں کرنا۔غرض انسان کے جو اعمال ہیں، جن کے بجالانے کی اللہ تعالیٰ نے اُسے طاقت دی ہے وہ بھی گواہی دیں کہ دل نے واقعی تصدیق کی ہے اور زبان نے جو اقرار کیا ہے وہ منافقانہ اقرار نہیں ہے۔وہ احمقانہ اقرار نہیں ہے۔وہ مصلحت بینی کے نتیجہ میں اقرار نہیں ہے بلکہ انسان نے ایک حقیقت کو دیکھا، پر کھا، سچا پایا اور اس کا اقرار کیا اور دل نے اس کی تصدیق کی اور پھر انسان سر سے لے کر پاؤں تک اُس پر قربان ہو گیا۔یہ ایمان ہے۔اس آیت کے دوسرے حصے میں اسی معنے میں ایمان کا لفظ استعمال ہوا ہے مثلاً یہ ایمان ہے کہ روزے رکھو۔روزوں کا مہینہ اب ختم ہو رہا ہے لوگوں نے روزے رکھے ، سوائے بیمار اور معذوروں کے جولوگ بیماری اور معذوری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتے محسوس تو وہ بھی کرتے ہیں دُکھ وہ بھی اُٹھاتے ہیں۔جو لوگ روزہ رکھتے ہیں وہ بھوک کا دُکھ اُٹھاتے ہیں اور جو روزہ نہیں رکھتے بوجہ معذوری، وہ روزہ نہ رکھنے کا جو طبیعت میں ایک دُکھ پیدا ہوتا ہے، وہ اُسے برداشت کر رہے ہوتے ہیں۔غرض دونوں تکلیف میں سے گذر