خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 40 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 40

خطبات ناصر جلد سوم خطبہ جمعہ ۶ رفروری ۱۹۷۰ء پہلا حصہ ہے اُسے ایک خاص مقصد کے پیش نظر تفصیل سے بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ ایمان کا یہ حصہ ہے کہ کن پر اور کس پر ایمان لانے کا حکم ہے جب خالی ایمان آمَنُوا يَا أَمِنُوا يَا يُؤْمِنُونَ استعمال ہو تو اس میں ہر اُس چیز پر ایمان لانے کی طرف اشارہ ہوتا ہے جس کا ذکر قرآن کریم کی کسی دوسری جگہ فرمایا ہے۔قرآن کریم پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ایمان کے لفظ کو ( یعنی جن چیزوں پر ایمان لانا ہے ) مختلف آیات میں بیان کیا ہے اور وہ یہ ہیں۔سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَكَةِ وَالْكِتَبِ وَالنَّبِينَ (البقرة : ۱۷۸) فرمایا کہ مومنوں کو اللہ پر ایمان لانا چاہیے، یومِ آخر پر ایمان لانا چاہیے ، ملائکہ پر ایمان لانا چاہیے، الکتاب پر ایمان لانا چاہیے اور انبیاء پر ایمان لانا چاہیے۔پانچ چیزوں کا یہاں ذکر ہے سورہ اعراف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعَا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ لَا إلهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ فَأمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَتِهِ وَ اتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (الاعراف: ۱۵۹) ووووو اس آیت میں ایمان باللہ اور ایمان بِمُحَمَّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ہے۔ایمان تو النَّبِيِّينَ پر بھی لانا ہے دوسری جگہ رُسل پر بھی ایمان لانے کا ذکر ہے لیکن ان انبیاء اور رسل میں سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب کر کے نمایاں طور پر ہمارے سامنے پیش کیا اور کہا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری ہے۔سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ “ (البقرة : ٤) کہ الغیب پر ایمان لانا ضروری ہے۔سورہ اعراف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ هُمْ بِأَيْتِنَا يُؤْمِنُونَ “ (الاعراف: ۱۵۷) ہایت اللہ ایمان لانا ضروری قرار دیا ہے اور سورہ محل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ مَثَلُ السَّوءِ “ (النحل : ٦١ ) 66