خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 507
خطبات ناصر جلد سوم ۵۰۷ خطبہ جمعہ ۵ /نومبر ۱۹۷۱ء جماعت کا خرچ ہے وہ سرا بھی ہے اور علانیہ بھی ہے اور اپنی استعداد کے مطابق بڑا خرچ ہے یہ معمولی خرچ نہیں ہے۔جماعت اسی طرح قریباً سوا دو یا اڑھائی لاکھ روپیہ سالانہ خرچ کرتی ہے جو مقامی فنڈ ز ہیں اُن میں سے جماعت اس سلسلہ میں بھی خرچ کرتی ہے وہ رقم اس وقت میرے ذہن میں نہیں لیکن مجموعی طور پر یہ بھی بڑی رقم بن جاتی ہے اور میں یقین رکھتا ہوں اس علم کی بناء پر جو مجھے حاصل ہوتا رہتا ہے کہ افرادِ جماعت ایک بڑی رقم ستر ا بھی خرچ کر رہے ہوتے ہیں، وہ بتانا نہیں چاہتے مثلاً کئی ایسے خرچ ہوتے ہیں کہ خاوند بیوی کو نہیں بتا تا یا بیوی خاوند کو نہیں بتاتی۔اس واسطے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بستر آخرچ کرو اور بیوی یا خاوند خدا تعالیٰ کے مقابلے میں کیا چیز ہے اصل تو اللہ ہی اللہ ہے۔غرض دونوں طرح بے حد خرچ ہو رہا ہے لیکن میرا کام ہے کہ میں یاد دہانی کراتا رہوں۔اس لئے اس علم کے باوجود میں یہی کہوں گا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ آپ رمضان میں تیز ہواؤں کی طرح سخاوت کیا کرتے تھے۔آپ اس سنت کو نہ بھولیں اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی اس کی توفیق عطا فرمائے۔( آمین ) خطبہ ثانیہ سے پہلے حضور نے فرمایا:۔الحمد لله ضعف کافی حد تک دُور ہو گیا ہے۔روزنامه الفضل ربوه ۸ /جنوری ۱۹۷۲ ء صفحه ۳ تا ۵)