خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 495 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 495

خطبات ناصر جلد سوم ۴۹۵ خطبہ جمعہ ۲۹/اکتوبر ۱۹۷۱ء میں پڑھ رہا ہے اس کے والدین اُسے ایک روپیہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جا کر وقف جدید کے چندے میں دے دو۔اب وہ روپیہ اُس نے کما کر نہیں دیا لیکن اس طرح ایک عادت پڑی اور ثواب کا ایک ذریعہ بن گیا پس یہ سمجھنا کہ باپ تو بچے کے لئے ثواب کے سامان پیدا کرنے کا اہل ہے اور اس کی تو فیق رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا یا نہیں کرسکتا۔یہ غلط ہے حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ایسا کرتا ہے باپ نے تو وہ اٹھنی یا رو پی بھی جود یا اُس کا اپنا نہیں تھا کیونکہ گھر سے تو کچھ نہ لائے۔جو اللہ تعالیٰ نے مال اُسے دیا تھا اس میں سے ایک تو اس نے اس رنگ میں دیا کہ اس خدمت کو اپنی طرف منسوب کر لیا اور کہا کہ میں نے دیا اور دوسرے اس رنگ میں دیا کہ اپنے بچے کو کہا کہ تم خرچ کرو، میرے ثواب میں تم بھی شریک ہو جاؤ۔غرض خدا تعالیٰ پر ہمارا احسان نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ وہ ہمیں مال دیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ میری راہ میں خرچ کرو اور ثواب حاصل کر لو۔مال تو اللہ کا تھا اس پر ثواب نہیں ملنا چاہیے تھا مگر اپنے فضل سے وہ ثواب عطا کرتا ہے جب آپ کسی کو اس کی امانت واپس کرتے ہیں تو کوئی احسان تو اس پر نہیں کرتے کہ اتنی رقم اس کو ادا کی پس جو اللہ تعالیٰ کا مال ہے وہی آپ اللہ تعالیٰ کو واپس کر رہے ہیں۔اس میں نیت اور اخلاص کا سوال ہے احسان تو نہیں۔اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور پھر فرمایا تمہارے لئے میں نے ثواب کا ایک موقع بہم پہنچایا ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ”بخل اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے“۔جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ جو کچھ بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔دنیا کے سارے اموال دنیا کی سب دولتیں جو ہیں، ان کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ہمیں تو اس نے مال دیا اور فرمایا یہ تمہارا حصہ ہے، میں تمہیں دیتا ہوں۔تمہارا حصہ اس معنے میں کہ تمہارے اور بھی بھائی انسان ہیں اور بھی بہنیں انسان ہیں۔ان کو بھی دیا، تمہیں بھی دیا۔یہ مال و دولت جو میں نے پیدا کیا ہے تمہارے لئے پیدا کیا ہے۔اس میں سے اپنے اپنے حق ( وہ حق جو میں نے مقرر کئے ہیں ) وہ لے لو اور پھر فرمایا کہ اس میں سے اتنا میری راہ میں خرچ کرو اور خود ہی راہ اور