خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 496 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 496

خطبات ناصر جلد سوم ۴۹۶ خطبہ جمعہ ۲۹/اکتوبر ۱۹۷۱ء ضرورت کی تعیین کر دیتا ہے۔یہ ضرورت بھی اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے مثلاً تحریک جدید کی جب ابتدا ہوئی تو اس سے پہلے تو تحریک جدید کے کاموں کے لئے مال کی ضرورت نہیں تھی۔پہلے عام چندہ دیتے تھے یا وصیت کے چندے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ ایک اور ضرورت پیدا کر دی اور فرمایا اتنا مال اور میری راہ میں خرچ کرو یعنی تحریک جدید کا بھی چندہ دو۔پھر جماعت نے تحریک جدید کے چندے دینے بھی شروع کئے۔پھر وقف جدید کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور ضرورت پیدا کر دی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس میں بھی چندے دو۔پھر اس کے بعد علاوہ اور بہت سارے چھوٹے چھوٹے چندوں کے جن میں جماعت بشاشت سے حصہ لیتی ہے۔فضل عمر فاؤنڈیشن کا ایک نیا منصوبہ بنا اور اس طرح ایک اور ضرورت پیدا کر دی گئی۔پھر اس کے بعد نصرت جہاں آگے بڑھو کا ایک منصوبہ بنا اور اللہ تعالیٰ نے ایک اور ضرورت پیدا کر دی اور قربانی کی ایک اور راہ کھول دی۔پس اللہ تعالیٰ جتنی ضرورت پیدا کرتا ہے، اتنی ہم سے امید رکھتا ہے کہ اسی کی عطا میں سے اپنے اموال کا ایک حصہ اس کے کہنے کے مطابق اور اس کی پیدا کردہ ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اس کے حضور پیش کر دیا جائے گا، اس امید پر اور اس توکل اور بھروسہ پر کہ اللہ تعالیٰ جہاں ہمارے اندر اخلاص پیدا کرے گا۔وہاں ہمارے اخلاص کو شیطانی یلغار سے محفوظ بھی رکھے گا اور جب ہم اس کے حضور اسی کے مال کا ایک حصہ پیش کریں گے تو وہ اسے قبول کرے گا اور اس طرح پر ہمیں تو اب مل جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔پس چاہیے کہ خدا تعالیٰ پر توکل کر کے پورے اخلاص اور جوش اور ہمت سے کام لیں کہ یہی وقت خدمت گزاری کا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ پورے اخلاص اور پورے جوش اور پوری ہمت سے کام لیں بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے پورے اخلاص اور پورے جوش اور پوری ہمت سے کام لیں۔اس لئے کہ اخلاص خواہ بظاہر انسان کے اندازہ کے مطابق کامل ہی کیوں نہ ہو اور جوش بھی ایسا کہ دنیا واہ واہ کرنے لگے اور ہمت بھی ایسی