خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 479
خطبات ناصر جلد سوم ۴۷۹ خطبہ جمعہ ۱۵/اکتوبر ۱۹۷۱ء وقت جو فوج تھی انہوں نے اسے جمع کیا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بعض سرداروں کو فرمایا کہ خالد بن ولید کے پاس چلے جاؤ۔یہ مل ملا کر کل قریباً چودہ ہزار مسلمان تھے۔ان چودہ ہزار کو لے کر حضرت خالد نے سلطنت کسری جیسی عظیم سلطنت کے خلاف چڑھائی کر دی اگر چہ جنگ دفاعی تھی جوابی حملہ تھا مگر پھر بھی شام کی طرف جانے سے قبل حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے غالباً آٹھ دس جنگیں تو یقینا ایرانیوں کے ساتھ لڑی ہیں اور ہر جنگ جو انہوں نے لڑی ہے کوئی دودن کے وقفہ کے بعد اور کوئی سات دن کے وقفہ کے بعد لڑی گئی ہے۔ہر جنگ میں ایران کی نئی فوج نئے سردار یعنی کمانڈر انچیف کے ماتحت ان کے مقابلے پر آئی جن کی تعداد ساٹھ ستر ہزار ہوتی تھی اور پھر بالکل تازہ دم گویا مسلمانوں نے اپنے سے ۶،۵ گنا زیادہ تازہ دم فوج کا مقابلہ کیا۔مسلمانوں کی تعداد چودہ ہزار بھی نہیں رہی ان میں کچھ شہید ہو رہے تھے کچھ زخمی ہو رہے تھے اور پھر نسبتا طاقتور بھی نہیں رہے تھے کیونکہ جو زخمی ہوتے تھے وہ صحت مند آدمی کی طرح تو بہر حال نہیں لڑ سکتے تھے۔ویسے ایثار کے جذبہ کے ماتحت آجاتے تھے مثلاً ذرا فرق پڑا تو جنگ میں شامل ہو گئے۔تلوار ہاتھ میں پکڑ لی۔کہا جس طرح ہو سکا ہم جنگ کریں گے۔بچ جائیں گے یا خدا کی راہ میں شہید ہو جائیں گے۔غرض اس عرصہ میں حضرت خالد بن ولید کے ماتحت جو جنگیں ہوئی ہیں ان میں چودہ ہزار مسلمان لڑتے رہے یعنی چودہ ہزار اور کچھ کم کیونکہ ہر جنگ میں شہید اور زخمی ہونے والوں کی وجہ سے تعداد کم ہورہی تھی اور ہر مقابلے میں ایرانیوں کی تازہ دم فوج نئے کمانڈر انچیف کے ماتحت مقابلے پر آتی تھی جن کی تعداد میں نے بتایا ہے ساٹھ ستر ہزار کے درمیان ہوتی تھی۔آپ غور کریں اللہ تعالیٰ کا یہ کتنا بڑا افضل ہے کہ اسلام کی ظاہری حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سامان پیدا کیا کہ چودہ ہزار سرفروشوں نے ایران جیسی سلطنت کے پر خچے اڑا دیئے کیا ان کی ہمت اور طاقت تھی کہ وہ ایسا کر سکتے ؟ نہیں! ان میں اتنی طاقت اور ہمت نہیں تھی پھر کون لڑتا تھا ؟ نہ نظر آنے والی طاقتیں لڑتی تھیں جو مسلمانوں کے دل کو سہارا دیتیں اور ایرانیوں کے دل میں بزدلی اور خوف پیدا کرتی تھیں۔بسا اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ایک جنگ میں ( صبح سے شام تک