خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 478 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 478

خطبات ناصر جلد سوم ۴۷۸ خطبہ جمعہ ۱۵/اکتوبر ۱۹۷۱ء ساتھ کر رہے ہیں میں ہنس پڑا۔میں نے کہا چار دن پہلے کی بات کر رہے ہو اب تو جماعت احمد یہ اس سے کہیں آگے نکل گئی ہے اب تو گردن تھک جائے گی اگر ہم نے اس واقعہ کی طرف دیکھنے کے لئے گردن موڑی۔ہمیں خدا تعالیٰ آگے ہی آگے لے جا رہا ہے اس واسطے فکر کی کوئی بات نہیں خدا تعالیٰ جماعت پر اتنے فضل کر رہا ہے کہ مثلاً ( میں نے ان کو واقعہ بتایا میں نے کہا ) ان چار دنوں میں جو ڈاک میرے پاس آئی ہے یہ ٹھیک ہے وہ اس واقعہ سے پہلے کی ہے لیکن ان چار دنوں کی ڈاک بعد میں آجائے گی لیکن یہ پتہ لگتا ہے کہ چاروں دنوں میں ( چاہے کہ وہ پہلے کے دن ہو ) جماعت کتنی ترقی کر گئی ہے فلاں ملک میں پانچ نئی جماعتیں قائم ہوگئی ہیں فلاں جگہ نئے ہیلتھ سنٹر کھل گئے ہیں اور فلاں جگہ سکول کھل گئے ہیں چنانچہ ان کو میں نے واقعات بتا کر کہا کہ خدا کا فضل جس قوم پر، جس جماعت پر اتنا ہو کہ چار دن پہلے کا جماعتی واقعہ دیکھنے کے لئے اسے گردن کے پٹھوں کو تکلیف دینی پڑے اس کو ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔نا سمجھی ہے، اللہ تعالیٰ وہ بھی دور کر رہا ہے دور ہو جائے گی۔خدا تعالیٰ نے یہ تو فیصلہ کر دیا ہے کہ اسلام تمام دنیا پر دوبارہ اسی شان سے غالب آئے گا جیسا کہ اپنی نشاۃ اولی کے زمانے میں بڑی شان سے غالب آیا تھا۔آپ سوچا کریں کیونکہ جب تک ہم مثال کو نہ سمجھیں آج کے حالات کو نہیں سمجھ سکتے۔ایران نے اُس زمانہ میں چھیڑ چھاڑ شروع کر دی کیونکہ ان کی سرحدوں پر عرب آباد تھے اور ایرانی سمجھتے تھے کہ مسلمانوں میں ایک نئی روح پیدا ہورہی ہے، ہمارے لئے مشکل پیدا ہوگی اس لئے انہوں نے کہا کہ ان ( عربوں) کو تنگ کرو چونکہ ایرانیوں نے پہل کی تھی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی سرحدوں کو محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا اور فرمایا اس کا طریق یہ ہے کہ چونکہ ایرانی ہم پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ہمیں مؤثر جوابی حملہ کرنا چاہیے چنانچہ آپ نے حضرت خالد بن ولید سے فرمایا کہ جو تمہارے پاس فوج ہے وہ ارتداد کو رفع کرنے کے لئے سرحدوں ہی پر پھر رہے تھے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایران ملوث ہو گیا تھا وہ مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو شہ دے رہا تھا ) اس کو ساتھ لے کر تم چلے جاؤ اور ایرانیوں کو خاموش کرو۔حضرت خالد بن ولید کے پاس اُس