خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 471 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 471

خطبات ناصر جلد سوم ۴۷۱ خطبہ جمعہ ۱۵ جنوری ۱۹۷۱ء کے فضل تم پر اسی وقت تک نازل ہوتے رہیں گے جب تک کہ تم اپنے دلوں میں بے مائیگی اور نیستی کا احساس پوری شدت کے ساتھ قائم رکھو گے۔الہی سلسلوں کے دو امتیازی نشان ہوتے ہیں۔ایک تو یہ کہ الہی سلسلوں میں داخل ہونے والا اور اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت کا فرد عبد مسلم ہوتا ہے اور دوسرے یہ کہ وہ عبد حسن ہوتا ہے۔میں نے جو آیت ابھی تلاوت کی ہے اس میں ان دونوں باتوں کی طرف اشارہ ہے۔اسلام نام ہے اس بات کا کہ انسان کا اپنا کوئی ارادہ باقی نہ رہے اور اس پر ایک موت وارد ہو جائے۔انسان اپنی تمام خواہشات کے ساتھ اور اپنی تمام قوتوں کے ساتھ اپنے رب کے پاؤں پر گر جائے اور اس سے یہ کہے کہ اے میرے پیدا کرنے والے محبوب ! جو کچھ مجھے ملاوہ تیرے فضل سے ملا۔جو کچھ مجھے مل رہا ہے وہ تیرے فضل سے مل رہا ہے اور جو کچھ مجھے ملے گا وہ بھی تیرے فضل سے ہی ملے گا کیونکہ میں تو کچھ بھی نہیں ہوں۔میری آنکھ صرف اس وقت دیکھ سکتی ہے جب تیرا فضل اسے کہے کہ وہ دیکھے۔میری زبان صرف اس وقت بول یا چکھ سکتی ہے، جب زبان پر تیرا حکم نازل ہو کہ وہ بولے اور لذت اور سرور حاصل کرے۔اسی طرح میرے کانوں کی شنوائی بھی تیری رحمت کی محتاج اور میرے حواس کی جس بھی تیرے فضل کے بغیر زندہ اور قائم نہیں رہ سکتی۔اے خدا! تو نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے۔تو قادر و توانا ہے اور بہت کچھ دے سکتا ہے۔ہماری امیدوں سے بھی زیادہ ، ہماری تو قعات سے بھی زیادہ ، ہمارے تخیل اور تصور سے بھی زیادہ دے سکتا ہے۔ہمیں جو کچھ بھی مل سکتا ہے ، وہ تیری رحمت کے طفیل ہی مل سکتا ہے۔ہم تیرے حضور جھکتے اور تیری رضا کی خاطر اور تیرے وصال کے لئے تیری محبت پانے کے لئے ہم اپنے اوپر ایک موت وارد کرتے ہیں۔اے زندہ اور زندگی بخش ! تو ہماری اس موت کو اپنی راہ میں قبول کر اور ہمیں وہ زندگی دے جس پر فرشتے بھی رشک کریں۔ہر احمدی جب تک عبد مسلم نہیں بنتا، اس معنی میں کہ ہر وقت اور ہر آن اُسے یہ احساس رہے کہ اس نے جو کچھ بھی پایا وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پایا اور ہم جو کچھ بھی پائیں گے وہ اسی کے فضل سے پائیں گے ہم تو کچھ بھی نہیں ہیں۔ہمارے پاس تو نہ عزت ہے، نہ دولت ہے اور نہ اقتدار