خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 472
خطبات ناصر جلد سوم ۴۷۲ خطبہ جمعہ ۱۵ جنوری ۱۹۷۱ء ہے لیکن عزتیں اللہ تعالیٰ بانٹتا ہے اور اموال بھی وہی تقسیم کرتا ہے پھر اموال جب وصول ہو جاتے ہیں تو ان کے اچھے نتائج بھی وہی نکالتا ہے جس سے ایک خوشی اور بشاشت کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔پس تم ہمیشہ عبد مسلم بنے رہو کیونکہ اس کے بغیر ہم اپنے مقصود کو پانہیں سکتے۔اس کے بغیر اللہ تعالیٰ جو ہم سے چاہتا ہے، وہ ہم اسے دے نہیں سکتے۔اس کے بغیر وہ موت ہمیں مل نہیں سکتی جس کے بعد ایک ابدی اور خوشحال زندگی آسمانوں سے عطا کی جاتی ہے۔دوسرا امتیازی نشان الہی جماعتوں اور ان جماعتوں کے افراد میں یہ نظر آتا ہے کہ وہ عبد حسن ہوتے ہیں۔ان میں سے ہر شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں تمام شرائط کے ساتھ اعمال صالحہ کو بجالانے والا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر احسان کرنے والا ہوتا ہے۔احسان کے لفظ کو جب دوسروں پر احسان کے معنوں میں استعمال کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو حقوق دیئے تھے ، وہ اپنے یہ حقوق بھی اپنے بھائیوں کو دے دیتا ہے اور اسی طرح اپنے حق سے کم لینے پر اس لئے تیار رہتا ہے کہ اُسے اللہ تعالیٰ کی رضامل جائے اور پھر احسان کے یہ معنے بھی ہوتے ہیں کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ نے ہر فرد واحد کے جو حقوق قائم کئے ہیں، انسان ان حقوق سے زیادہ دینے کے لئے تیار ہو جائے۔ایسا شخص محسن ہوتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ پیار کرتا ہے۔قرآن میں آیا ہے کہ محسنوں سے اللہ تعالیٰ پیار کرتا ہے۔یہ وہ محسن ہوتا ہے جس کے متعلق قرآن کریم کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔پس جب ہم عبد مسلم بننے کے بعد عبد محسن بھی بن جائیں (یا مجھے شاید یوں کہنا چاہیے کہ ) عبد مسلم بنے بغیر کوئی شخص حقیقی معنے میں محسن نہیں بن سکتا، اس لئے عبد مسلم بھی بنے اور عبد محسن بھی بنے اور خدا تعالیٰ کے بندوں سے پیار کرنے لگے اور ان کے لئے اپنے حقوق کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائے اور اُن کے اللہ تعالیٰ نے جو حقوق قائم کئے ہیں اُن سے زائد دینے کے لئے تیار ہو جائے تو یہ وہ محسن ہوتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے میں تمہارے ساتھ ہوں چنا نچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔اِنَّ اللهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ۔(العنكبوت: ۷۰) غرض جسے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہو جائے اُسے کسی غیر کی احتیاج کہاں باقی رہتی ہے مگر