خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 465
خطبات ناصر جلد سوم ۴۶۵ خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۷۱ء ۳۱٫۳۰ جنوری اور پہلی ، دوسری، تیسری، چوتھی اور پانچویں فروری کے یہ سات دن میں اس وقت مقرر کرتا ہوں۔یہ دن عملاً بیدار ہو کر اس بات کے ثابت کر دینے کے لئے ہیں کہ عارضی طور پر اونگھ آ گئی تھی۔نہ سوئے اور نہ موت وارد ہوئی۔موت کا تو یہاں سوال ہی نہیں لیکن سوئے بھی نہیں تھے البتہ اونگھ تو اچھے ہو شیار آدمی کو بھی آجاتی ہے۔بعض دفعہ رات کو تہجد پڑھنے والا بھی اگر تھکا ہوا ہو تو اُسے بھی اُونگھ آجاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کا دماغ ہی کچھ ایسا بنایا ہے۔موصیوں کے حصہ آمد میں جو کمی ہے اس کے لئے تو میں موصیوں کی تنظیم کو ذمہ وار قرار دیتا ہوں جن کے سپرد یہ کام ہے انہیں پتہ کرنا چاہیے کہ یہ کمی کیوں واقع ہوئی ہے پس موصیوں کا بقایا بھی نہیں رہنا چاہیے۔باقی دو تین لاکھ روپے کی رقم ہے اس وقت خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔یہ کوئی ایسی رقم نہیں اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں۔میں نے پہلے بھی ایک دفعہ کہا تھا کہ جس وقت خدا تعالیٰ کے حضور کوئی عملی قربانی پیش کی جاتی ہے اس وقت سے اس پر ثواب شروع ہوتا ہے۔آپ دو مہینے ثواب سے محروم رہے اللہ تعالیٰ آپ پر اپنا فضل اور رحم فرمائے۔بہر حال غلطی ہوئی ہے اب ہمیں زیادہ دیر تک محروم نہیں رہنا چاہیے بلکہ یہ عزم کر لینا چاہیے کہ ہم نے ان بقایا جات کو پورا کرنا ہے۔آپ نے سال رواں کے لئے کام کے جو منصوبے مشاورت کے موقع پر باہمی مشورے سے منظور کئے تھے اور ان کاموں کے کرنے کے لئے جس رقم کی آپ نے ضرورت محسوس کی تھی اور جس کے مطابق آپ نے بجٹ بنایا تھا ، وہ بجٹ پورا ہونا چاہیے ورنہ وہ کام نہیں ہوسکیں گے۔پھر اگلی مشاورت کے موقع پر عہدیدار آکر یہ نہیں کہیں گے کہ اُن سے ستی ہو گئی۔انہوں نے احباب جماعت کو یاد دہانی نہیں کرائی بلکہ وہ یہ کہیں گے کہ یہ کام کیوں نہیں ہوا ؟ وہ یہ نہیں سوچیں گے کہ اس کام کے لئے اتنے روپے کی ضرورت تھی جب تک وہ روپیہ مہیا نہ ہو وہ کام کیسے ہوسکتا ہے؟ بہر حال میں اپنی طبیعت کے لحاظ سے یہ سمجھتا ہوں کہ مجھے اس تفصیل میں بھی جانے کی ضرورت نہیں۔( طبیعت سے مراد بیماری نہیں بلکہ فطرت ہے بیماری میں تو مجھے جتنی توفیق ملے گی بولوں گا ) اس واسطے کہ مجھے پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے