خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 462 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 462

خطبات ناصر جلد سوم ۴۶۲ خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۷۱ء بتایا ہے کہ نہ تمہاری آنکھ اسے دیکھ سکتی ہے، نہ تمہارے کان اسے ٹن سکتے ہیں اور نہ تمہاری عقل اس کا احاطہ کر سکتی ہے۔مثالوں میں ہمیں سمجھایا گیا ہے اور وہ یہی ہے کہ وہ دارا بتلاء نہیں ہے۔ہماری یہ زندگی جو ابتلاء اور امتحانوں کی زندگی ہے اس سے تو وہ مختلف ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ وہاں ترقیات کے یعنی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو پہلے سے بھی زیادہ حاصل کرنے کا امکان نہیں ہے البتہ کس طریق پر انسان زیادہ سے زیادہ انعامات حاصل کرتا رہے گا اور اللہ تعالیٰ کے پیار کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرتا رہے گا، اس کا ہمیں پتہ نہیں لیکن ہمیں یہ علم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہاں بھی یہی طریق رکھا ہے کہ آج ( گذری ہوئی ) کل سے بہتر ، اور آنے والی کل آج سے بہتر ہو گی۔ویسے حالات اور مخلوق کے لحاظ سے زمانہ کی شکل بھی بدل جاتی ہے۔اس دنیا میں بھی انسان کا زمانے کے متعلق تصور اور اُس کیڑے کا تصور جس کی زندگی چند سیکنڈ سے زیادہ نہیں ہوتی مختلف ہوتا ہے۔کیڑے کا تصور کیا ہے؟ اس کا تو ہمیں پتہ نہیں۔لیکن ہماری عقل کہتی ہے کہ وہ بہر حال مختلف ہوتا ہے۔شہد کی مکھی جو ہر وقت اپنے کام میں لگی رہتی ہے، اس کی ساری زندگی ۴۵ اور ۶۰ دنوں کے درمیان ہوتی ہے اس سے زیادہ اس کی عمر نہیں ہوتی۔غرض ہر شہد کی مکھی اپنی پیدائش سے ۴۵ اور ۶۰ دن کے درمیان کام کرتے ہوئے مرجاتی ہے اور یہ ہمیں بہت سارے سبق دیتی ہے جو اس وقت میرے مضمون کا حصہ نہیں۔اسی طرح شہد کی مکھیوں کی ماں، جو ان کی ملکہ کہلاتی ہے، اس کی عمر ۴ اور ۵ سال کے درمیان ہوتی ہے۔اب یہ وقت کا تصور دونوں کے لئے بڑا مختلف ہوگا۔اگر ہم شہد کی مکھیوں پر غور کریں اور اپنی عقل سے کام لیں تو پتہ لگتا ہے کہ ایک کو تو بڑی جلدی پڑی ہوتی ہے کہ وہ ۴۵ دن میں زیادہ سے زیادہ کمالے مثلاً ایک شہد کی مکھی جب ایک خاص عمر میں شہد اکٹھا کرنے کے لئے جاتی ہے تو وہ صبح سے شام تک اپنے کام میں لگی رہتی ہے۔اُس پر ایک جنونی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ایک دن میں شاید ہزار ہا میل کا سفر کرتی ہے۔جاتی ہے آتی ہے پھولوں کا رس چھتے میں رکھتی ہے۔پھر جاتی ہے اور اس طرح وہ چکر لگا رہی ہوتی ہے۔وہ مجھتی ہے کہ میری چھوٹی سی زندگی ہے میں اس میں زیادہ کماؤں۔یہ کیفیت انسان میں بھی پیدا