خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 461 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 461

خطبات ناصر جلد سوم ۴۶۱ خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۷۱ء رہے اور اپنے ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتا رہے تو پہلے سال سے زیادہ بہتر ہوتا ہے اور زیادہ قربانیوں اور زیادہ امتحانات میں سے گزرنے اور ان انعامات سے زیادہ انعامات کا وارث بننے کا سال ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے تمہیں جو دولت دی ہے یا میں نے تمہیں جو اولا د دی ہے، یہ تمہارے آخری امتحان کا نتیجہ نہیں ہے کہ انعام مل گیا اور اب تم نے تسلی پکڑ لی۔آخری امتحان کا نتیجہ تو خاتمہ بالخیر ہونے کے بعد انسان کو ملتا ہے جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حسن واحسان کے جلوے بڑی وضاحت کے ساتھ مشاہدہ کرتا اور جو محبت اور عشق کا سرور ہے وہ صحیح اور حقیقی معنے میں اسی وقت اس کو ملتا ہے۔اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو سہارا دینے کے لئے اور اس کی مدد کرنے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ جب وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں ایک قربانی دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے اپنے پیار کا بھی اظہار کرتا ہے اور اپنے محسن و احسان کے جلوے بھی اسے دکھاتا ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک، انسانی فطرت اور اس کی جدو جہد کے نتیجہ میں اسے جو کامیابی حاصل ہوتی ہے اس کے مطابق ہوتا ہے لیکن وہ وہاں کھڑا نہیں رہتا یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے وہ یہ نہیں کہتا کہ اگر چہ میں نے تمہیں روحانی ترقیات کی طاقتیں تو دی تھیں لیکن تم نے ایک امتحان پاس کر لیا اب تمہیں مزید کچھ نہیں ملے گا۔مزید امتحان کا دروازہ کھولا جانا بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔اس کے بغیر تو زندگی کا کوئی لطف نہیں اس ورلی زندگی کے متعلق بھی ہمارے سامنے یہی تصویر رکھی گئی ہے اور اُخروی زندگی کے متعلق بھی یہی تصویر رکھی گئی ہے۔بعض ناسمجھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جب انسان جنت میں جائے گا تو گویا اس کو سب کچھ مل گیا۔ابھی سب کچھ نہیں ملا کیونکہ سب کچھ ملنے کا مطلب تو یہ ہے کہ اس کے اوپر مزید ترقیات کے دروازے بند ہو گئے لیکن حقیقت یہ نہیں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بڑی وضاحت سے روشنی ڈالی ہے کہ اُخروی زندگی میں ارتقاء کا غیر متناہی دور ہوگا۔البتہ وہاں دُنیوی رنگ کے امتحان نہیں ہوں گے۔وہ تو دنیا ہی اور رنگ کی ہے جس کے متعلق بتانے والے (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے