خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 460 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 460

خطبات ناصر جلد سوم ۴۶۰ خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۷۱ء اس لئے عطا کی ہے کہ اُس سے وہ ہمارا امتحان لینا چاہتا ہے۔اس دنیا کے امتحانات پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے ( یعنی جو انسان کی عقل اور فطرت نے سمجھا اور سمجھایا ہے وہ یہ ہے ) کہ انسانی زندگی میں امتحان ایک نہیں ہوتا بلکه درجہ بدرجہ مختلف امتحانات میں سے انسان کو گذرنا پڑتا ہے مثلاً ایک بچہ ہے وہ پہلے کچی پہلی کا اور پھر پکی پہلی کا امتحان دے کر دوسری ، تیسری، چوتھی اور اسی طرح دسویں جماعت تک پہنچتا ہے۔پھر دسویں جماعت کے امتحان کے بعد ایف اے یا ایف ایس سی کا امتحان دیتا ہے۔پھر علوم کے راستے مختلف ہو جاتے ہیں۔مثلاً کچھ طلباء بی اے تک پھر ایم اے تک اور پھر ایم اے کے بعد پی ایچ ڈی تک جاتے ہیں کچھ انجینئر نگ میں جاتے ہیں اور مختلف امتحانات میں گذرتے ہیں۔کچھ طب کی طرف جاتے ہیں اور ڈاکٹر بننے کی کوشش کرتے ہیں انہیں مختلف قسم کے امتحانوں میں سے گذرنا پڑتا ہے۔کچھ کو بعد میں نوکریاں مل جاتی ہیں پھر وہ ڈیپارٹمنٹل امتحانات میں سے گذرتے ہیں۔جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ہر امتحان کے بعد ایک تو انعام مقرر کیا جاتا ہے یعنی کامیابی ملتی ہے اور دوسرے ایک نئے اور بڑے امتحان کا دروازہ کھلتا ہے۔پہلی کے بعد دوسری کا امتحان ایک نیا امتحان ہے اور یہ پہلی کے امتحان سے بڑا ہے اسی طرح دسویں کے بعد ایف۔اے اور بی اے اور اس کے بعد ایم اے اور پھر پی ایچ ڈی کے جو امتحانات ہیں ، پہلے امتحان میں کامیابی کی شکل میں انعام بھی ملا اور ایک نئے امتحان کا دروازہ بھی کھلا اور نئے امتحان کا دروازہ ناکامی کی صورت میں نہیں کھلتا۔کوئی شخص دسویں جماعت میں فیل ہو کر انٹر میڈیٹ یا ایف اے، ایف ایس سی میں شامل نہیں ہو سکتا۔یہ دروازہ اس کے اوپر بند ہو گیا اسی طرح جو بی اے میں فیل ہوتا ہے اس پر ایم اے کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اور جو بی ایس سی میں فیل ہوتا ہے اس پر اگلا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔یہی حال ( کچھ اس سے ملتا جلتا ) روحانی دنیا کا ہے۔اسی لئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کا ہر قدم پہلے سے آگے بڑھتا ہے مومن کی زندگی کا ہر سال اگر وہ کامیاب ہوتا