خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 438 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 438

خطبات ناصر جلد سوم ۴۳۸ خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۷۰ء سمجھتے تھے کہ انسانی جان کی کوئی قیمت اور قدر اور عظمت نہیں ہے اور مارشل لاء سے قبل وہ یہ سمجھتے تھے کہ قانون کوئی نہیں ، افراتفری ہے جو مرضی ہے ہم کرتے رہیں۔اب انتخاب کے قریب ان کو یہ وہم تھا کہ حکومت ان کے ہاتھ میں آنے والی ہے اس لئے وہ دھمکیاں بھی دینے لگ گئے تھے اور منصوبے بھی بنا رہے تھے۔مادی آنکھ غیر مادی سہارے کو نہیں دیکھ رہی تھی اس لئے بجھتی تھی کہ جو چاہیں گے، کر دیں گے لیکن وہ جن کا مادی سہارا نہیں ہوتا صرف اپنے رب کی طرف جھکتے اور رجوع کرتے اور متوجہ ہوتے ہیں اور خود کو کچھ نہیں سمجھتے۔روحانی آنکھ تو اس سہارے کی عظمت اور شان کو پہچانتی ہے۔پہچاننے والوں نے پہچانا اور جو پہچانا اسی کے مطابق پیار کرنے والے رب نے حالات کو بدل دیا۔بہت سی باتیں کانوں میں پڑتی رہیں مناسب نہیں تھا کہ آپ بھائیوں کے سامنے بیان کی جائیں۔دعا تھی ، دعا کرتا رہا دعا قبول کرنے والا قا در و توانا تھا اس نے آپ کی بھی اور میری بھی دعاؤں کو قبول کیا۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ - اس وقت جو دو انتخاب قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ہو چکے ہیں۔اس کے نتیجہ میں وہ لوگ جن پر تھوڑ ایا بہت قوم نے اعتماد کیا ہے اور خصوصاً قوم کے اس حصہ نے جن کو ہمارے نزدیک بھی وہ حقوق نہیں مل رہے جو حقوق کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کے قائم کئے ہیں ان کے متعلق اب ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے کہ اے خدا! تو ان لوگوں کو جنہوں نے اب قانون بنانے اور قانون کا اجراء کرنا ہے اخلاص اور سمجھ اور فراست دے اور ان کے دل میں انسان کا پیار پیدا کر اور انسانی حقوق کی ادائیگی کے لئے جو ہدایت اور تعلیم تو نے دی ہے اسے سمجھنے کی توفیق دے اور اس پر عمل کرنے اور کروانے کی ان میں جرات پیدا کر۔ایک تو خاص طور پر یہ دعا کریں۔پریذیڈنٹ یحیی خان صاحب اور ان کی REGIME ( رجیم) کے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جزا دے۔انہوں نے قوم کی بہتری کے لئے یہ سب کچھ کیا ایک ظاہر بین نگاہ بھی دیکھتی ہے اور جیسا کہ ہر ایک شخص پر یہ ظاہر ہے کہ ان کی کوئی ذاتی غرض نہیں تھی اللہ تعالیٰ انہیں ایسے رنگ میں جزا دے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو مزید حاصل کرنے لگیں۔