خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 426 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 426

خطبات ناصر جلد سوم ۴۲۶ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء قرآن کریم حفظ ہوتا تبھی تو ان کی سازش ناکام ہوتی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بے شمار مسلمانوں کو قرآن کریم حفظ کرنے کی توفیق بخشی۔چھوٹی چھوٹی فوجیں باہر جاتی تھیں اور ان کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں حفا ظ ہوتے تھے۔(اب مشکل پڑ گئی ہے کیونکہ لوگوں نے قرآن کریم سے وہ پیار نہیں کیا۔ہماری جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک رو شروع ہوئی ہے ) جس کا مطلب یہ ہے کہ بڑی کثرت سے لوگ قرآن کریم حفظ کرتے تھے اور اگر کسی کو پورا قرآن کریم حفظ نہیں تھا تو بڑی بڑی سورتیں اور کئی کئی سپارے یاد ہوتے تھے حتی کہ چھوٹے بچوں کو بھی بہت سی سورتیں یاد ہوتی تھیں ( ہمارے گھروں میں بھی اس کا شوق پیدا کرنا چاہیے۔دس پندرہ سال کے بچوں کو آخری سیپارے کی چھوٹی چھوٹی سورتیں ضرور یاد کر وا دینی چاہئیں) پس کفار نے دھوکہ دہی سے قرآن کریم کے حفاظ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس طرح اسلام کو ستر حفاظ سے محروم کر دیا گیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ ٹھیک ہے یہ زندگی تو ہے ہی عارضی کوئی آدمی بستر پر مر جاتا ہے اور کوئی اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جاتا ہے تم نے اسلام کو ایسے ستر مخلصین سے محروم کیا تھا جنہیں قرآن کریم زبانی یاد تھا اور اس وقت تو مسلمانوں کی تعداد بھی تھوڑی تھی۔حفاظ کے قتل کا یہ واقعہ سن چار بجری کا تھا فتح مکہ کے موقعہ پر مسلمان مردوں کی تعداد دس ہزار تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت یافتہ تھے۔تو چار ہجری میں تو بہت ہی کم ہوں گے اور اس وقت حافظ قرآن بہت تھوڑے تھے۔ان میں سے کفار نے اپنی طرف سے بہت سارے شہید کر دیئے لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لاکھوں کی تعداد میں حفاظ دیئے اور اب تک دیتا چلا آیا ہے۔یہ بات یا درکھیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی اور فیض رساں زندگی چند سالوں میں ختم نہیں ہوئی۔آپ کو ابدی زندگی عطا ہوئی ہے۔آپ کے روحانی فیوض کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔اس واسطے جب میں آپ کی زندگی کا ذکر کرتا ہوں تو اس سے دونوں طرف اشارہ ہوسکتا ہے یعنی آپ کے اپنے زمانہ میں بھی اور بعد میں اب تک آپ کے روحانی فیوض جاری وساری ہیں۔چنانچہ اس عرصہ میں کروڑوں مسلمانوں کو قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت ملی جس سے