خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 425 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 425

خطبات ناصر جلد سوم ۴۲۵ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء غرض کفار مکہ نے اغوا کا منصوبہ بنایا اور اس طرح بیبیوں مسلمانوں کو اس تربیت سے محروم کیا جسے وہ حاصل کرنا چاہتے تھے یا اس تربیت سے محروم کیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو اپنے پروں کے نیچے رکھ کر دینا چاہتے تھے اور یہی اغوا ہے۔غرض مسلمانوں کے خلاف ایک اس قسم کے اغوا کا منصوبہ بنایا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم اغوا کا یہ منصوبہ بناؤ ہم اسے ناکام بنا دیں گے البتہ جس طرح اغوا کی شکلیں مختلف ہوتی ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ جو قادر و توانا ہے اس کا کوئی جلوہ Repeat (ری پیٹ) نہیں ہوتا (یعنی دہرایا نہیں جانتا) یعنی اس میں Monotony (مونوٹنی اکتا دینے والی یکسانیت ) نہیں پیدا ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے جلوے كُلّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمن :۳۰) کی رو سے کبھی ایک شکل میں اور کبھی دوسری شکل میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں چنانچہ کفار کے اس اغوا کے منصوبہ کے خلاف اللہ تعالیٰ تدبیر کرتا رہا اور ان کو اس منصوبے میں ناکام بنا تارہا اور جب تک ایک مومن یا مسلمان کو اسلام پر قائم رہنے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی توفیق ملتی رہتی ہے یا جن کو ملتی ہے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کرتا ہے جیسا کہ اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے کیا تھا۔66 کفار کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ماننے والوں کے خلاف دوسری گید ( یعنی تدبیر یا سازش) یہ تھی کہ وہ مسلمانوں کو دھو کے سے قتل کر دیتے تھے۔اب دھو کے سے قتل کر دینا کئی شکلوں کا ہوتا ہے مثلاً ایک یہ کہ پیٹھ کی طرف سے آکر پیچھے سے پھر اگھونپ دینا، یہ بھی دھو کے کا قتل ہے اور دین سیکھنے کا بہانہ بنا کر ستر حفاظ کو لے جانا اور وہاں ان کو شہید کر دینا یہ بھی دھو کے کا قتل ہے یا مثلاً ۱۹۴۷ء میں ہندو اور سکھ مسلمانوں کی ریل گاڑیوں کو پٹڑیوں سے نیچے اتار دیتے تھے یہ بھی دھو کے کا قتل ہے۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے خلاف دھوکے سے قتل کرنے کی بھی سازش ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔اگر ایک مسلمان دھوکے سے قتل ہوا تو اس کی جگہ اللہ تعالیٰ نے اس جیسے ہزاروں مسلمان دے دیئے مثلاً یہ حفاظ کا قتل ہے یہ ستر آدمیوں کا قتل نہیں بلکہ سنٹر حفاظ کا قتل ہے۔ان کے بدلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے آدمی ملنے چاہیے تھے جنہیں