خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 411
خطبات ناصر جلد سوم ۴۱۱ خطبه جمعه ۴/دسمبر ۱۹۷۰ء آپس میں تو کوئی دشمنی نہیں تھی۔خدا ایسے دل ہماری قوم کو بھی دے کہ جب وہ جیتیں تو خدا کی راہ میں خدا کے لئے اس کے حکم سے عاجزانہ راہوں کو اختیار کریں اور اگر وہ جیت نہ سکیں تو شرافت کا ایک نہایت اعلی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔صرف اپنے ملک کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے وہ ہادی بنے کی کوشش کریں۔وہ جیتنے والے کو مبارک باد دیں اور ان سے گلے بھی ملیں ان کو تسلی بھی دیں کہ یہ الیکشن کا مقابلہ تھا اس سے پیار کی فضا پیدا ہوتی ہے جب ہمارا کالج لاہور میں تھا تو ہمارا کالج اور تو کوئی کھیل کھیل نہ سکتا تھا۔پاکستان بننے کے بعد ابتداء میں ہی ہم نے روئنگ شروع کی تھی۔دریا کے کنارے پر پرنسپلز میں سے صرف میں وہاں جایا کرتا تھا کیونکہ دوسرے کا لجزہا کی بھی کھیل رہے تھے ، فٹ بال بھی کھیل رہے تھے اور کرکٹ بھی کھیل رہے تھے اور بیبیوں قسم کی کھیلیں وہ کھیل رہے تھے تو ہر جگہ پر نسپل تو نہیں پہنچ سکتا۔ہمارا کالج شروع میں روئنگ میں پہلے مقابلہ پر آیا۔وہاں اسلامیہ کالج بھی تھا وہ پہلے فرسٹ پوزیشن میں تھا پھر بعد میں ہم نے ان کو شکست دی اور فرسٹ پوزیشن پر آگئے اور تیرہ سال سے شاید سوائے ایک دو سال کے اب تک فرسٹ آرہے ہیں لیکن ان بچوں کو بھی میں سمجھا تا رہتا تھا کہ مقابلہ کشتی رانی کا ہے۔جب تم دریا کے پانی پر ایک دوسرے سے مقابلہ کرو گے تو ہمارا مقابلہ ہے لیکن دریا کے کنارے پر جیسے میرے اپنے کالج کے بچے ہیں ویسے ہی دوسرے کا لجز کے بچے ہیں اور میرے نزدیک کوئی فرق نہیں ہے تمہیں اگر کوئی تکلیف ہوا گر کوئی ضرورت ہو تو مجھے آکر بتا یا کرو اور بعض دفعہ دوسرے کا لجز کے بچے پیچھے پڑ جاتے تھے کہ آپ مقابلہ کرنے والے اپنے لڑکوں کو وائکا منز (vitamins) دے رہے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ ہم بھی آپ جیسے ہیں تو پھر ہمیں کیوں نہیں دیتے تو میں انہیں بھی دے دیا کرتا تھا عملاً بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ ایسی اچھی فضا وہاں تھی باوجود اس کے کہ لاہور میں بعض غیر تربیت یافتہ علاقے بھی ہیں۔ایک دفعہ کشتی رانی کے مقابلہ سے پہلے اسلامیہ کالج کے حق میں اور ہمارے خلاف ایک نعرہ بڑی گندی قسم کا لگ گیا تو اسلامیہ کالج کی ٹیم کا کیپٹن ان کے پاس چلا گیا اور ان کو کہنے لگا کہ اگر پھر تم نے ایسا نعرہ لگایا تو ہم مقابلہ نہیں کریں گے واپس آجائیں گے تو محبت کی فضا قائم کرنا تو ساروں کی ذمہ داری ہے اور محبت کے نتیجہ میں محبت پیدا ہوتی ہے۔محبت ہی جیتتی ہے۔اسلام نے ہمارے ہاتھ میں محبت اور خدمت اور مساوات