خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 412
خطبات ناصر جلد سوم ۴۱۲ خطبه جمعه ۴/دسمبر ۱۹۷۰ء کی تلوار دی تھی۔اسلام کو لوہے کی تلوار تو مجبوراً استعمال کرنی پڑی کیونکہ اسلام کے مقابلہ میں لوہے کی تلوار نکالی گئی۔لیکن اصل تلوار ہمارے ہاتھ میں خدائے رحمن نے اور خدائے ودود نے محبت اور مساوات اور پیار اور خدمت کی دی ہے اور جہاں گئے ہیں اسی تلوار نے دشمن کو گھائل کیا ہے اور وہ علاقے جہاں سے وقتی طور پر مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا اور جہاں کی غیر مسلم آبادی نے رو رو کر ان کو الوداع کہا اور دعائیں دیں کہ خدا تمہیں واپس لائے۔کیا وہ لوہے کی تلوار کا کرشمہ یا معجزہ تھا یہ تو پیار کا ایک معجزہ تھا وہ مساوات کا کرشمہ تھا اور خدمت کا وہ نتیجہ تھا کہ انہوں نے دیکھا کہ مسلمان ہمارے پاس آئے ہمارے ہمدرد بن کر آئے۔ہمارے خیر خواہ بن کر آئے۔ہماری ضرورتوں کو پورا کرنے والے ہمارے جذبات کا خیال رکھنے والے بن کر آئے۔جب وہ وہاں سے جانے لگے تو غیر مسلم آبادی کے دل میں دکھ اور درد پیدا ہوا لوہے کی تلوار نے یہ فضا پیدا نہیں کی تھی یہ محبت اور پیار کی زبان نے ، یہ خدمت کے جذبہ نے ، یہ مساوات کی تعلیم نے فضا قائم کی تھی تو خدا کرے کہ ہمارے جو سیاسی قائدین اور لیڈرز ہیں ان کو یہ مسئلہ اسلام کا سمجھ آ جائے اور اس فضا کو جو پاک ہونی چاہیے وہ اسے پاک بنادیں اور پیار کی فضا بن جائے اور ہزار قسم کے اختلاف کے باوجود بھائیوں کی طرح ہی نہیں بلکہ ہمارا رشتہ تو انسان کے انسان سے بھی بڑھ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کا ہے۔جو بھی ہمارے اعتقادات ہیں جو بھی ہمارے خیالات ہیں۔ہم اس چیز میں تو متفق ہیں نا۔کہ ہم سارے کہتے ہیں کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں اسلام نے اس سے بھی اوپر ہمیں یہ تعلیم دی تھی جس کا یہ نتیجہ بنا ہے کہ چونکہ سارے انسان اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے پیدا کردہ اور سارے عالم پر تسخیر کرنے اور ان کو اپنے قابو میں کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی اہلیت رکھنے والے ہیں اس لئے سب برابر ہیں تمیز نہیں کی جاسکتی نہ سفید اور کالے کے درمیان ، نہ کالے اور زرد رنگ کے درمیان ، نہ چھوٹے قد اور بڑے قد کے درمیان، نہ امیر اور غریب کے درمیان ، نہ بچے اور بڑے کے درمیان ، نہ عورت اور مرد کے درمیان ، جس قسم کی اہلیت ہے اس کے مطابق اس کی نشو و نما کمال تک پہنچنی چاہیے اور ایسی حسین تعلیم دی ہے۔میں افریقہ میں گیا ہوں۔ان کے سامنے جب یہ باتیں پیش کرتا تھا تو احمدی اور دوسرے بھی خوش ہوتے تھے۔مگر