خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 404
خطبات ناصر جلد سوم ۴۰۴ خطبہ جمعہ ۶ رنومبر ۱۹۷۰ء کا۔اللہ تعالیٰ تو بندے کو نظر نہیں آسکتا نہ یہ مادی آنکھ اسے دیکھ سکتی ہے اور نہ یہ مادی دماغ اس حد تک رسائی حاصل کر سکتا ہے یہ تو خدا تعالیٰ ہی ہے جو اپنے محبوب بندے کے پاس پہنچتا ہے اور اس کو بھی اپنی قدرتوں کا جلوہ دکھا کر اپنے زندہ تعلق کا اظہار کرتا ہے اور اسے ذریعہ بھی بنالیتا ہے اس بات کا کہ جس طرح دھات کی ایک بار یک تاریجلی کی روشنی ظاہر کرتی ہے اسی طرح یہ ایک چھوٹی سی جماعت (اس تار سے بھی شاید کم حیثیت رکھنے والی ) اس نور کے اظہار کا ذریعہ بنتی ہے جو نور که نور السمواتِ وَالْأَرْضِ ہے۔پس جب ان کے خلاف زبانیں چلائی جاتی ہیں تو یہ ثبات قدم دکھاتے ہیں اور جب انہیں دکھ دینے کے لئے تدبیریں کی جاتی ہیں اور منصو بے باندھے جاتے ہیں اور سامان اکٹھے کئے جاتے ہیں اور ایک شور مچایا جاتا ہے اور دعوے کئے جاتے ہیں کہ ہم ان کو قتل کر دیں گے اور مار دیں گے تو ان کے قدموں میں کوئی لغزش نہیں آتی اور وہ جن کے اوپر رعایا کی حفاظت کی ذمہ داری ہے وہ بھی خاموش رہ جاتے ہیں لیکن خدائے قادر و توانا جس نے ان کی زندگی کی ضمانت لی ہے اور جس کے اوپر نیند اور اونگھ نہیں آتی اور جس کے قادرانہ تصرف سے کوئی چیز باہر نہیں وہ ان کے پاس آتا ہے اور انہیں بڑے پیار سے کہتا ہے تم گھبراؤ نہیں دنیا تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔تم میری حفاظت اور میری پناہ اور میری سلامتی کے نیچے ہو۔میرے مقابلہ میں دنیا کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔پس لا مُبَدِّلَ لِكَلِیتِ اللهِ جو خدا نے فرمایا ہے وہی ہوگا۔ہمارا اس پر پختہ یقین اور کامل ایمان رکھنا ضروری ہے۔خدا تعالیٰ نے ہمیں فرمایا کہ آگ تمہیں نہیں جلائے گی۔خدا تعالیٰ نے ہمیں بڑے پیار سے یہ فرمایا کہ ساری دنیا کی طاقتیں اکٹھی ہو کر بھی تمہیں ہلاک نہیں کر سکتیں اور نہ صرف یہ فرمایا ہے بلکہ اپنے فعل سے یہ ثابت بھی کیا ہے۔میں افریقہ میں یہ کہتا رہا ہوں کہ اکیلا ایک شخص تھا جس نے خدا کے حکم اور اس کی توحید کے قیام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور جلال کو دنیا کے دلوں میں بٹھانے کے لئے ایک آواز بلند کی تھی مگر ساری دنیا اکٹھی ہو کر اس ایک آواز کو خاموش کرنے کے پیچھے پڑگئی لیکن ساری دنیا اکٹھی ہو کر بھی اس ایک آواز کو خاموش نہیں کر سکی اور اب افریقہ کے ایک ایک ملک میں ایسی لاکھوں آوازیں میرے کان میں پڑ رہی ہیں کہ جن میں سے ہر ایک آواز اس اکیلے آدمی کی آواز