خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 394 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 394

خطبات ناصر جلد سوم ۳۹۴ خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۷۰ء جس طرح ہمارا نائیجیریا کا مبلغ انچارج ربوہ میں آکر ربوہ کی گلیوں میں پھرتا ہے اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر تو کچھ ہو نہیں سکتا اور اس کی مدد کو جذب کرنے کے لئے ایک تو ہمیں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت چاہیے اور دوسرے عاجزانہ دعائیں چاہئیں۔آپ کی محبت میں اللہ تعالیٰ کی محبت آجاتی ہے۔آپ نے اپنے پیدا کرنے والے رب سے جو محبت کی ہے وہ کسی اور فر د بشر نے نہیں کی۔دفتر سوم کو جس میں روز بروز ترقی ہوتی چلی جائے گی کیونکہ نوجوانوں کو اس طرف بڑی توجہ پیدا ہو رہی ہے۔وہ آئیں گے تو دفتر سوم میں داخل ہو جائیں گے دفتر سوم میں جب داخل ہوں گے غیر تربیت یافتہ ہوں گے آج احمدی ہوئے کل کو اس نے تحریک جدید کا چندہ لکھوا دیا اس پر ذمہ واری پڑ گئی جو ہر احمدی نوجوان پر پڑتی ہے اس کو اپنا نفس مارنا پڑے گا اس کو گالیاں سن کر بجائے چپیڑ لگانے کے دعا دینی پڑے گی اسے بڑے زبر دست ضبط اور نفس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔دوسروں کو تو بڑا آرام ہے، غصہ آیا چپیڑ لگا دی۔ایک چپیڑ کھالی ایک چپیڑ لگا دی ، پر ایک احمدی کی نہ یہ تربیت ہے اور نہ اسے یہ زیب دیتا ہے اسے تو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ چیڑ کھاؤ اور دعا دو اور دل جیتو ہم نے لوگوں کے سر پھاڑ کر ترقی نہیں کرنی بلکہ غلبہ اسلام کی یہ ہم لوگوں کے دل جیت کر سر ہوگی۔جس طرح یورپ سے میں نے جا کر کہا تھا کہ تمہارے دل جیتیں گے اور اسلام کو پھیلائیں گے اسی طرح میں یہاں بھی کہتا ہوں۔کسی سے ہماری دشمنی اور لڑائی نہیں ہم دل جیتیں گے اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو پھیلائیں گے۔اس لئے جب تم چپیڑ کھاؤ گے تو چپیڑ کا جواب چپیڑ سے نہیں دینا۔اس لئے بڑی زبر دست تربیت کی ضرورت ہے۔نفس کی مثال گھوڑے کی ہے نفس یا تو منہ زور گھوڑا بن سکتا ہے یا مطبع گھوڑا بن سکتا ہے گھوڑے میں بڑی طاقت ہے اگر چاہے اور مطبع نہ ہو تو دس آدمیوں کو کھینچ کر لے جائے ، لگام آپ جتنی مرضی کھینچتے رہیں وہ کوئی پرواہ نہیں کرتا اسی طرح نفس امارہ اور اس کی بدیاں بڑی زور دار ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی محبت کی اور عاجزانہ دعاؤں کی لگام اس کے منہ میں پڑنی چاہیے اور اس کو ایک ہلکا سا اشارہ کافی ہونا چاہیے گھوڑے کو جو سکھایا جاتا ہے صرف اشارہ سکھایا جاتا ہے۔اسے