خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 395 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 395

خطبات ناصر جلد سوم ۳۹۵ خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۷۰ء یہ نہیں بتایا جاتا کہ میں تم سے زیادہ طاقتور ہوں ، یہ بتایا جاتا ہے کہ میں تم سے زیادہ ہوشیار ہوں تمہیں میرے اشارے پر چلنا پڑے گا۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ گھوڑے کو ہم نے تمہارے لئے مسخر کیا ہے اور یہی گھوڑے کو سمجھایا جاتا ہے ویسے لگام کا اشارہ ہوتا ہے لیکن اگر اچھا گھوڑا ہو تو سوارا گر بغیر لگام کے اشارے کے ٹھہرانا چاہے تو وہ کھڑا ہو جاتا ہے پس نفس کو بھی اسی طرح مطیع ہونا چاہیے یہ نہیں کہ جو مرضی کرے آپ کا شعور یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اچھے کھانے نہ کھاؤ اس وقت مجھے تمہارے پیسوں کی اس لئے ضرورت ہے۔تم اپنے جسموں کو کھانے سے اس لئے محروم کرو کہ کسی اور روح کو تمہارے پیسے کی ضرورت ہے تو بہر حال یہ روح جسم پر مقدم ہے پس اپنے جسم کی آسائش اور اچھے کھانے کی لذت کی قربانی دو تا کہ کوئی اور روح جہنم سے بچائی جاسکے اور یہ تربیت نفس کو آپ نے دینی ہے وہ جو باہر سے آئیں گے وہ تو اور بھی فکر مند کر دیں گے کہ پہلوں کی جو تربیت ہے اس میں رخنہ نہ پڑ جائے۔ان کو آتے ہی سنبھالنا چاہیے اور پیار کے ساتھ اور محبت کے ساتھ صحیح راستہ پر ان کو لگا دینا چاہیے یہ ذمہ داری انصار اللہ پر ہے۔باقی آپ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو مال خرچ کرتے ہیں وہ اس لئے خرچ نہیں کرتے کہ ہم نے ایک منصوبہ بنایا اور اس منصوبے کو ہم کامیاب کرنا چاہتے ہیں بلکہ میں بھی اور آپ بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی اپنی استعداد اور اخلاص کے مطابق جو مالی قربانی پیش کرتے ہیں وہ اس لئے پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک منصوبہ بنایا اور ہمیں یہ فرمایا کہ اس کو کامیاب کرنے کے لئے قربانیاں دو۔غرض یہ منصوبہ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا ہے اور ہم سے اس کا یہ وعدہ ہے کہ تم اپنی استعداد کے مطابق قربانیاں دیتے چلے جاؤ منصوبہ میں نے کامیاب کرنا ہے تمہارے سر پر سہرا باندھ دوں گا خدا تعالیٰ کو تو سہرے کی ضرورت نہیں سہرے کی احتیاج تو اس کے بندے کو ہوا کرتی ہے اس سہرے کی جو اللہ تعالیٰ باندھے۔پس ہمارا رب بڑا پیار کرنے والا ہے غلبہ اسلام کا خود ایک منصوبہ بنایا اور فرمایا کہ دنیا جو مرضی کرے ساری اقوامِ عالم حلقہ بگوش اسلام ہو کر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سرشار اور مست ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے قدموں میں جمع ہو جائیں گی اور ہمارا رب