خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 393
خطبات ناصر جلد سوم ۳۹۳ خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۷۰ء۔ٹریننگ ہوتی تھی ان کی خود کا یہ حال تھا کہ ایک دفعہ ان کا ایک جرنیل نکلا، ان کا یہ دستور تھا کہ انفرادی جنگ کے لئے وہ اپنے مد مقابل سے دست بدست جنگ کے لئے آدمی بلاتے تھے چنانچہ ان کا ایک جرنیل نکلا اور اس نے حضرت خالد بن ولید کوللکارا کہ میرے مقابلے پر آؤ جب یہ گئے تو انہوں نے اپنی تلوار پورے زور کے ساتھ اس کے سر پر ماری مگر ان کے ہاتھ میں صرف دستہ رہ گیا اور تلوار ٹوٹ کر دور جا پڑی اور دستہ ہاتھ میں ،مگر اس جرنیل کو کچھ نہ ہوا خیر اللہ تعالیٰ نے حضرت خالد کو بچالیا میں اس وقت اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا میں یہ بتا رہا ہوں کہ وہ ہر لحاظ سے مسلح اور تربیت یافتہ ہوتے تھے اسلام سے پہلے عرب کی لڑائیاں قبیلے قبیلے کی لڑائیاں ہوا کرتی تھیں۔نہ ان کو اس قسم کے فنونِ جنگ آتے تھے جس قسم کے رومیوں اور ایرانیوں کے تھے گوان کے طریقوں میں آپس میں کچھ اختلاف بھی تھا مگر مسلمانوں کو یہ طریقے نہیں آتے تھے لیکن ایک صبح کو جب ضرورت پڑی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بہترین فوجی دماغ عطا کر دیئے اس کے خزانے تو خالی نہیں وہ تو بھرے ہوئے ہیں۔پس آپ یہ دعا کریں کہ جس صبح کو ہمیں ضرورت پڑے تو ہمیں نہایت ذہین اور صاحب فراست اور تحمل والے اور غیروں کے ساتھ پیار کرنے والے اور ان کی خاطر قربانیاں دینے والے اور ان کی خدمت کرنے والے اور ان کو اپنے سینے سے لگانے والے روحانی جرنیل مل جائیں وہاں جا کر یہ بھی جرنیل ہیں مگر تلوار کے بغیر جس کے ہاتھ میں قرآن کریم ہے وہ زیادہ اچھا جرنیل ہے قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کے ہاتھ میں بھی قرآن کریم تھا لیکن دشمن نے مجبور کر دیا تھا تلوار نکالنے پر ، ورنہ وہ بھی صرف قرآن کریم لے کر باہر نکلتے تھے۔غرض جتنے بھی جرنیلوں کی ہمیں ضرورت پڑے وہ ہمیں ملتے چلے جائیں آخر پہلے زمانہ میں مسلمانوں نے جرنیل بنانے کے لئے سٹاف کا لج تو نہیں کھولے تھے اللہ تعالیٰ جو معلم حقیقی ہے اس نے ضرورت پڑنے پر اپنے پیار کا جلوہ دکھایا ، بڑا ہی حسین جلوہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے میں نے بتایا ہے کہ تاریخ میں ان لوگوں کے نام کسی شمار میں نہ تھے۔آدمی حیران ہوتا ہے کہ یہ کہاں سے آ گیا پتہ لگا یہ مدینہ سے آ گیا ہے اور مدینہ کی گلیوں میں وہ بے چارا اس طرح پھر رہا ہوگا