خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 370
خطبات ناصر جلد سوم خطبہ جمعہ ۹/اکتوبر ۱۹۷۰ء میں رکھ کر دین و دنیا میں آپ ان کا متکفل۔۔۔۔اور سب کو اپنے دار الرضاء میں پہونچا اور اپنے۔۔۔۔اور اس کے آل و اصحاب پر زیادہ سے زیادہ درود و سلام و برکات نازل کر۔،، آمین یا رب العالمین۔۔پھر آپ فرماتے ہیں :۔”اے میرے قادر خدا! میری عاجزانہ دعائیں سن لے اور اس قوم کے کان اور دل کھول دے اور ہمیں وہ وقت دکھا کہ باطل معبودوں کی پرستش دنیا سے اٹھ جائے اور زمین پر تیری پرستش اخلاص سے کی جائے اور زمین تیرے راست باز اور موحد بندوں سے ایسی بھر جائے جیسا کہ سمندر پانی سے بھرا ہوا ہے اور تیرے رسول کریم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور سچائی دلوں میں بیٹھ جائے۔آمین اے میرے قادر خدا! مجھے یہ تبدیلی دنیا میں دکھا اور میری دعائیں قبول کر جو ہر ایک طاقت اور قوت تجھ کو ہے۔اے قادر خدا! ایسا ہی کر۔آمین ثم آمین ان اقتباسات میں جو ابھی میں نے پڑھ کر سنائے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ آپ کی بعثت کی غرض یہ ہے کہ اسلام کی حجت تمام مخالفین اسلام پر پوری ہو اور اس کے نتیجہ میں وہ اسلام کے حسن اور خوبیوں کو جاننے اور پہچاننے لگیں۔اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حقیقی توحید انسانوں کے دل میں پیدا ہو جائے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت اور آپ کے حسن و احسان کے جلوے بنی نوع کے دل منو ر کریں اور پھر آپ نے اپنے متبعین کے لئے دعا فرمائی ہے جو اس کام میں آپ مددگار اور معاون بنیں۔محبتِ اسلام بنی نوع انسان پر پوری کرنا آسان کام نہیں ہے۔دنیا اسلام کے حسن اور اسلام کے احسان سے واقف نہیں۔لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید پہچانتے ہی نہیں یا اس کی معرفت ہی نہیں رکھتے اللہ تعالیٰ کے منکر ہیں یا اس کو بے بس اور کمزور سمجھتے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لے اس خط میں جہاں نقطے دیئے ہوئے ہیں اس جگہ سے باعث دیرینہ ہونے کے پھٹ کر ضائع ہو گیا ہے۔لیکن یہ ضائع شدہ چند الفاظ ہیں زیادہ نہیں۔مضمون کا ربط معلوم ہوسکتا ہے۔فقط بقلم منظورمحمد ولدحضرت منشی صاحب