خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 353 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 353

خطبات ناصر جلد سوم ۳۵۳ خطبہ جمعہ ۲۵ ستمبر ۱۹۷۰ء ہزار میں سے ایک دو ہوتے ہیں۔بڑی بھاری اکثریت ایسی ہے جنہیں ہر روز سونے کے نتیجہ میں نیند کی لذت کا احساس نہیں رہتا یا مثلاً انسان سانس لیتا ہے اور یہ اس کے لئے لذت کا باعث ہے کیونکہ یہ زندگی کا باعث ہے لیکن آدمی کو سانس کی لذت کا اسی وقت پتہ لگتا ہے جب اسے نمونیہ ہو جائے یا موت کے وقت سانس اکھڑ جائے۔پھر اس کو پتہ لگتا ہے کہ سانس کتنی بڑی نعمت ہے۔میرے خیال میں اس وقت جو احباب میرے سامنے بیٹھے ہیں کسی کو بھی آج صبح سے یہ خیال نہیں آیا ہوگا کہ وہ سانس لیتے ہیں اور اس طرح انہیں بڑی لذت اور سرور حاصل ہوتا ہے۔پس جنت میں لذت کی یہ کیفیت نہیں ہوگی کیونکہ آشیمُ لَنَا نُورَنَا کی رُو سے جب بھی لذت کی عادت پڑے گی اور لذت حقیقی لذت نہیں رہے گی تو اس سے بھی بڑی لذت مل جائے گی۔پس ہمیں کتنی بڑی بشارتیں دی گئی ہیں اور ان کے مقابلے میں کتنی تھوڑی قربانیاں ہیں جن کا ہم سے مطالبہ کیا گیا ہے لیکن ہم بعض دفعہ اپنی جہالت کے نتیجہ میں سمجھتے ہیں کہ یہ چند روزہ زندگی کی لذات اُخروی زندگی کی لذات سے زیادہ قیمتی ہیں اور زیادہ ضروری ہیں ہم ان سے فائدہ اٹھا لیں اگلی دنیا پتہ نہیں آتی ہے یا نہیں۔یہ کمزوری ایمان کی علامت ہے۔غرض جہاں تک یوم آخرت پر ایمان لانے کا تعلق ہے آپ اپنے ایمان کے اس حصہ کو بھی پوری طرح مستحکم اور مضبوط بنالیں اس کے بغیر آپ قربانیاں نہیں دے سکیں گے اس کے بغیر آپ ان نعمتوں اور فضلوں اور بشارتوں کے وارث نہیں بن سکیں گے جن کا وعدہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمیں دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کے سمجھنے اور اس کی رضا کے لئے اس کی راہ میں ایسی قربانیاں دینے کی توفیق عطا کرے جنہیں وہ قبول کرلے اور ہماری سعی سعی مشکور بن جائے۔( آمین ) روزنامه الفضل ربوه ۲۱ /نومبر ۱۹۷۰ء صفحه ۲ تا ۷ )