خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 349 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 349

خطبات ناصر جلد سوم ۳۴۹ خطبہ جمعہ ۲۵ ستمبر ۱۹۷۰ء نہیں مرنے کے بعد دوسری زندگی ملے گی یا نہیں ملے گی الہی سلسلوں میں کئی ایسے کمزور لوگ بھی ہوتے ہیں جو قربانیاں بھی دے رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنی کمزوری ایمان کی وجہ سے انہیں ضائع بھی کر رہے ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں پتہ نہیں آخرت کی زندگی ہے بھی یا نہیں؟ پتہ نہیں وہاں ہمیں کس قسم کے انعاموں کا وعدہ دیا گیا ہے چونکہ ان کا ایمان پختہ نہیں ہوتا اس لئے نقصان اٹھاتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے اس حکم کے مطابق انسان کی خواہش آخرت کی نعماء کے حصول کی ہو اور پھر صرف خواہش ہی نہ ہو بلکہ وسطی لَهَا سَعيها آخرت کے نعماء کے حصول کے لئے جس قسم کی سعی اور کوشش اور مجاہدہ کی ضرورت ہے وہ اس قسم کی سعی اور کوشش اور مجاہدہ کر رہا ہو اور پھر فرما یاوَهُوَ مُؤْمِنٌ آخرت پر اس کا ایمان بھی پختہ ہو تو پھر اس کی کوشش پر اللہ تعالیٰ اس کا شکر گزار ہو گا یعنی اللہ تعالیٰ کے جو وعدے ہیں اس کے مطابق انعام ملے گا۔میں نے ابھی بتایا تھا کہ جب تک انسان کا دار آخرت اور اُخروی زندگی پر ایمان پختہ نہ ہو وہ قربانی نہیں دے سکتا جس کا اس سے مطالبہ کیا گیا ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ پر ہمیں ایمان ہے تو دار آخرت پر بھی ہمیں ایمان لانا چاہیے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کی ایک تو یہ زندگی ہے اور اس کے بعد ایک درمیانی زندگی ہے اور پھر آخرت میں جنت کی زندگی ہے جس میں انسان کو ایسی نعمتیں عطا ہوں گی جو اس کے تصور میں بھی نہیں آسکتیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں سمجھانے کے لئے اس دنیا کے بعض الفاظ بیان فرمائے ہیں لیکن ساتھ ہی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ بھی کہلوا دیا ہے کہ جنت میں جو نعماء تمہیں ملیں گی وہ اس قدر اعلیٰ درجہ کی ہوں گی کہ نہ اس سے پہلے تمہاری آنکھوں نے دیکھی ہوں گی نہ ان کے متعلق تمہارے کانوں نے سنا ہوگا اور نہ ہی تمہارے ذہن میں ان کا تصور ہوگا۔یہ پردے کی دنیا ہے یہاں اللہ تعالیٰ کے فضل پردوں میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔وہاں پر دے نہیں ہوں گے اللہ تعالیٰ کے فضل بالکل ظاہر ہو کر سامنے آ رہے ہوں گے اور شیطانی وسوسہ نہیں ہوگا۔پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ میری عطا کے ذریعہ سے تم دار آخرت کی