خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 323
خطبات ناصر جلد سوم ۳۲۳ خطبہ جمعہ ۴ ستمبر ۱۹۷۰ء اور اپنی جماعت کو بھی مخاطب کیا۔آپؐ فرماتے ہیں:۔”اے تمام لوگو! سُن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین وآسمان بنایا وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور بُرہان کی رُو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہو گا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا۔اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد ر کھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا۔یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔یہ ۱۹۰۳ء کا اقتباس ہے۔پھر آپ کو ۱۹۰۴ء میں اوپر نیچے یہ دوالہام ہوئے جن میں دو بشارتیں تھیں۔ایک ۸ / دسمبر ۱۹۰۴ء کو اور دوسری ۱۲ / دسمبر ۱۹۰۴ء کو۔پہلی بشارت یہ ملی کہ رسید مژده که ایام نو بہار آمد یعنی اللہ تعالیٰ نے بشارت دی کہ نئے سرے سے بہار آ رہی ہے اور نو بہار سے مراد یہ ہے کہ ایک بہار پہلے اسلام پر آچکی ہے یعنی نشاۃ اولی میں اور اب نشاۃ ثانیہ میں ایک اور بہار کا وعدہ ہے اور یہ بہار بالکل ویسی ہے جیسی کہ نشاۃ اولیٰ کی بہار ہے جو اگلے الہام سے ثابت ہے کیونکہ قرآن کریم نے نشاۃ اولیٰ کی بہار کا ذکر کوثر “ کے لفظ میں بیان فرمایا ہے یعنی انا اعطينك الكوثر یہ بہار تھی اور اب بھی اس کے ساتھ وہی وعدہ ہے یعنی نو بہار میں بھی کوثر کا وعدہ ہے۔اس تفصیل میں تو میں اس وقت نہیں جا سکتا۔بہر حال إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ ایک بڑی عظیم بشارت تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لی تھی۔تفسیر کبیر میں اسے بڑی وضاحت اور تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے جو دوست اسے پڑھ سکتے ہیں وہ ضرور پڑھیں۔غرض یہ ایک عظیم اور All round (آل راؤنڈ ) یعنی باقی بشارتوں پر محیط ہے۔پس یہ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ لے اس واسطے کہ یہ پوری نہیں ہوگی اس کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ذمہ داری کے سمجھنے اور اس کے ادا کرنے کا سوال ہے۔ے یہاں میں تھوڑی سی وضاحت کر دوں۔خدا اس مذہب یعنی اسلام اور اس سلسلہ یعنی احمدیت میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا۔سے ایک صدی کے لئے نہیں۔