خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 302 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 302

خطبات ناصر جلد سوم خطبه جمعه ۲۱ /اگست ۱۹۷۰ء حضرت خالد بن ولیڈ کے ہاتھ میں نہیں تھی نہ حضرت سعد بن وقاص کے ہاتھ میں تھی بلکہ وہ تلوار خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں تھی اور خدا کے ہاتھ میں جو تلوار ہوتی ہے اگر وہ چمکے اور کسی کی گردن اڑانا چاہے تو کس کی گردن محفوظ رہ سکتی ہے؟ ضمنا مجھے ایک اور بات یاد آ گئی ہے۔ایک صحابی لڑ رہے تھے دشمن بڑا طاقتور اور آہن پوش تھا یہ اس پر وار کرتے تھے مگر وار کا میاب نہیں ہوتا تھا۔اس عرصہ میں ایک اور دشمن نے ان پر پیچھے سے حملہ کیا اور جو ان کے سامنے سے لڑ رہا تھا اسے نظر آ رہا تھا کہ پیچھے سے اور حملہ ہو گیا ہے اس لئے میری جان بچ جائے گی۔ہمارے اس صحابی کو تو نظر نہیں آ رہا تھا ان کی تو اس طرف پیٹھ تھی لیکن انہوں نے سامنے دشمن پر تلوار چلانے کے لئے جب تلوار گھمائی اور اس کی نوک پیچھے آنے والے آدمی کی گردن پر لگی وہ دور جا پڑا اس سے پتہ لگتا ہے کہ مسلمانوں کی تلواریں خدا کے ہاتھ میں تھیں اس کی آنکھ سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں غرض وہ صحابی دم بخود ہو گئے حیران کہ یہ کیا واقعہ ہو گیا ان کو تو پتہ ہی نہیں تھا کہ پیچھے کون آرہا ہے اور وہ اس کا بچاؤ نہیں کر سکتے تھے ان کو علم ہی نہیں تھا کہ پیچھے سے بھی نیزے اور تلوار کا وار ہو گا چنانچہ ہوا یہ کہ جو چیز ان کو نظر نہیں آرہی تھی یا جو انسان ان کے پیچھے سے حملہ کرنے والا تھا اس کی گردن اڑ گئی اور پھر وہ بھی مارا گیا۔بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن یہ ہمیں بتارہی ہیں کہ وہ تلوار مسلمان کے ہاتھ میں نہیں تھی بلکہ مسلمان کے رب کریم کے ہاتھ میں تھی اس رب کے ہاتھ میں تھی جس کے متعلق ہم ایمان لاتے ہیں کہ الْمُلْكُ لِلَّهِ الْقُدْرَةُ لِلهِ اور الْعِزَّةُ لِلهِ جو متصرف بالا رادہ ہے دنیا میں کوئی کام نہیں ہوسکتا جب تک آسمان سے حکم نازل نہ ہو۔پس یہ کمزوریاں تھنکنگ کی فکر و تدبر کی یہ بھی چھوڑ وجو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے صرف وہی ہوتا ہے اور آج اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا ہے کہ اسلام اور احمدیت غالب آئے اور انشاء اللہ اسلام اور احمدیت غالب آئے گی۔میں جب بھی سوچتا ہوں مجھے مخالفین کے منصوبوں سے کبھی فکر پیدا نہیں ہوئی۔میں ایک لحظہ کے لئے بھی پریشان نہیں ہوا لیکن جو چیز مجھے پریشان کر دیتی ہے اور بعض دفعہ میری راتوں کی نیند حرام کر دیتی ہے وہ جماعت کی اپنی کمزوری ہے۔آپ یا درکھیں کہ آپ کا