خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 301
خطبات ناصر جلد سوم ٣٠١ خطبه جمعه ۲۱ راگست ۱۹۷۰ء توجہ دلائیں کہ یہ کیا کر دیا ہے؟ انہوں نے آگے سے جواب دیا کہ سمجھ آنے یا نہ آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہماری ریت یہ ہے کہ سَبْعًا وَ طَاعَةٌ۔ہم صرف سنیں گے اور اطاعت کریں گے بشاشت تو تمہارے دل کے اندر پیدا ہونی چاہیے ان ناسمجھوں کے دل میں بشاشت پیدا نہیں ہوئی لیکن خود حضرت خالد بن ولیڈ نے اپنی وفات سے پہلے کئی بار اس بات کا اظہار کیا کہ مجھے سمجھ آگئی ہے کہ میرے معزول کرنے میں کیا حکمت تھی ؟ وہ حکمت یہی تھی کہ یہ جو نئے آنے والے تھے ان کے دلوں میں احساس پیدا ہو گیا تھا کہ یہ فتوحات حضرت خالد کی مرہونِ منت ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کو یہ بتلانا چاہتے تھے کہ یہ فتوحات صرف اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کی مرہونِ منت ہیں خالد کوئی چیز نہیں بلکہ ہر انسان کی عمر کی بھی اور خالد کی بھی اور ناصر کی بھی۔غرض جو بھی مخلوق ہے اس کی اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ایک مرے ہوئے کیڑے سے زیادہ حیثیت نہیں ہے۔حضرت عمر ان کو یہ سبق سکھانا چاہتے تھے اور خوب سکھا یا حضرت ابوبکر صدیق نے اس حضرت خالد کو ایران کی جنگوں پر مامور کر رکھا تھا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں وہاں سے ہٹالیا اور پھر انہیں وہاں واپس نہیں بھیجا اور ان کی جگہ ایک بوڑھے متقی اور پر ہیز گار یعنی حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ جن سے بعض دفعہ لڑائی میں چلا بھی نہیں جاتا تھا مگر یہ بڑے پایہ کے صحابی تھے بڑے مخلص اور دعا گو تھے بنی نوع انسان سے بڑا پیار کرنے والے تھے انہیں جرنیل بنادیا۔حضرت خالد بن ولیڈ کی لڑائیوں کے متعلق تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے تھوڑا سا Bleeding ( بلیڈنگ) کیا یعنی ایرانی حکومت کو تھوڑا سا زخمی کیا۔اس میں ذرا سا ضعف آگیا لیکن حضرت سعد بن وقاص نے اپنے کمزور ہاتھ کی تلوار سے ایران کی گردن اڑا دی کیونکہ ان کا ہاتھ ظاہری طور پر کمزور تھا یا طاقتور تھا اس کا کوئی سوال ہی نہیں تھا اصل ہاتھ تو اللہ تعالیٰ کا تھا جس نے وہ تلوار پکڑی ہوئی تھی اور جب اللہ تعالیٰ کا ہاتھ تلوار اُٹھائے تو اس سے کون سی گردن محفوظ رہ سکتی ہے؟ کوئی نہیں رہ سکتی اگر یہ صحیح ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ (الفتح ) یعنی جنہوں نے تیرے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کی تیرے ہاتھ میں اُنہوں نے ہاتھ نہیں دیا خدا کے ہاتھ میں ہاتھ دیا تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اسلام کی تلوار