خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 300 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 300

خطبه جمعه ۲۱ راگست ۱۹۷۰ء خطبات ناصر جلد سوم ہوا وہ بڑے عجیب یعنی وہ فقرے ایسے نہیں کہ انسان بنا سکے بلکہ ایسے تھے کہ جس طرح آسمان سے نازل ہوئے ہیں اور ان سے میں نے بڑی لذت محسوس کی لیکن وہ میری زبان پر جاری ہوتے ہیں اور آخری فقرے کا صرف ایک لفظ یا درہ گیا اور اس میں یہ فقرہ کہتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کی خصوصیات اور جماعت احمدیہ کی کامیابیوں کا راز اس بات میں ہے پھر وہ Phrase(فریز) لمبی تھی مگر اس میں صرف discipline ( ڈسپلن ) کا لفظ یا درہ گیا یعنی نظم و اطاعت اور یہ حقیقت ہے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ یہ خوشخبری ملی ہے کہ دامن خلافت کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرتا چلا جائے گا اور اپنے فضل تم پر نازل کرتا چلا جائے گا مثلاً خلافت کی جو قدر پہلے صحابہ نے کی وہی قدر جماعت کو کرنی چاہیے۔جب حضرت خالد بن ولید کو معزول کیا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں وہی کوڑا تھا جو ہر خلافت کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔کسی کو زیادہ استعمال کی ضرورت پڑ جاتی ہے کسی کو کم پڑتی ہے۔کسی کا وہ کوڑا نمایاں ہو کر سامنے آجاتا ہے کسی کا کبھی کبھی سامنے آتا ہے اس لئے لوگ اسے بھول جاتے ہیں خلافت خلافت میں تو کوئی فرق نہیں۔ہر خلیفہ کے فرائض و اختیارات ایک جیسے ہیں۔کوڑا بھی ایک جیسا ہے کیونکہ اگر وہ کوڑا خلافت عمر کا حصہ نہیں تھا تو وہ نا جائز تھا اور ان کی طرف ہم کوئی ناجائز بات منسوب نہیں کرتے اگر وہ جائز تھا تو خلافت کا حصہ تھا اور ہر خلافت کا وہ حصہ ہے چنانچہ وہ کوڑا حضرت خالد بن ولیڈ پر چلا۔یہ تو ایک ضمنی بات ہے لیکن جو لوگ بعد میں آئے اور جن کی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدھ ملاقات ہوئی تھی یعنی اگر صحابی بھی تھے تو اس قسم کے تھے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایمان لائے تھے مگر بڑے مخلص اور فدائی بن گئے انہوں نے جب حضرت خالد کی معزولی کا سنا تو بڑے پریشان ہوئے کہ یہ کیا ہو گیا؟ اتنا بڑا جرنیل جس نے اتنی بڑی قربانیاں دیں اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر اتنی فتوحات بخشیں اور ایک فقرہ لکھا ہوا آگیا کہ ان کو معزول کر دو۔انہوں نے اسے قبول نہیں کیا اگر چہ بغاوت نہیں کی لیکن طبیعتوں میں بشاشت نہیں پیدا ہوئی چنانچہ ا کا بر صحابہ کے پاس ان لوگوں کا ایک وفد گیا کہ ہمیں خلافت کی یہ بات پسند نہیں آئی اور ہم کچھ کہ نہیں سکتے اور آپ صحابہ میں سے بزرگ ہیں آپ حضرت عمر کو