خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 292
خطبات ناصر جلد سوم ۲۹۲ خطبه جمعه ۲۱ /اگست ۱۹۷۰ء طرف آؤ اور اس کا ذریعہ یہ ہے فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ (النساء : ۱۷۶) اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو تب تم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جاؤ گے اور جب تم اللہ کی پناہ میں آجاؤ گے تو پھر دنیا تمہیں ذلت کے گڑھے میں پھینک نہیں سکے گی پھر دنیا تمہیں عذاب کے تندور کے اندر دھکیل نہیں سکے گی پھر دنیا تمہارے ناک میں نکیل ڈال کر ذلیل کرنے کے لئے گلیوں میں پھر انہیں سکے گی بلکہ پھر یہ ہوگا۔فَسَيْدُ خِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ (النساء :۱۷۶) اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں تمہیں داخل کر دے گا اپنے فضل کے محلوں کے اندر تمہیں لے جائے گا اپنے سلامتی کے حصار میں تمہیں رکھے گا وَ يَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا (النساء : ۱۷۶) اور جو اس نے قرآن کریم کے ذریعہ ایک سیدھا راستہ اپنی طرف پہنچانے کے لئے مہیا کیا ہے اس پر تمہاری انگلی پکڑے گا اور اس راستے پر تمہیں لے جائے گا اور تم کامیاب ہو جاؤ گے کیونکہ جو شخص صراط مستقیم پر اللہ تعالیٰ کی انگلی پکڑ کر چل رہا ہوا سکے نا کام ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔دوسری جگہ یہ فرمایا کہ جب ہم نے یہ کہا ہے کہ ایمان لائے (وہاں وہ ماضی کا صیغہ ہے مفہوم وہی ہے ) کہ جو لوگ ایمان لائے یا اگر تم ایمان لاؤ تو اللہ تعالیٰ کو اپنی پناہ کا ذریعہ بنالو اور اسکے نتیجہ میں رحمت اور فضل تمہیں ملے گا۔ذلت اور رسوائی اور ناکامی اور دشمنوں کا غلبہ تمہارے نصیب میں نہیں ہوگا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس ایمان کے جو تقاضے ہیں وہ تمہیں پورے کرنے چاہئیں پھر فرما يا وَ إِن تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا یہاں تقویٰ ایک اور وسیع مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم میرے ان احکام کا جو میں نے قرآن کریم میں دیئے ہیں بجا آوری میں ثابت قدمی دکھاؤ اور اگر تم دنیا کی تمام Temptations ( ٹیمپٹیشنز ) یعنی وہ باتیں جو غیر اللہ کی طرف کھینچنے والی ہیں ان سے تم بچو تولا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا تو جو تمہارا دشمن ہے ان کا کوئی منصوبہ تمہیں ضرر یا تکلیف نہیں پہنچا سکتا غرض اللہ تعالیٰ نے جو احکام جاری کئے ہیں جسے ہم اسلام کہتے ہیں اور سارے احکام سے مل کر اسلام بنتا ہے۔کسی ایک حکم کے مطابق بھی اگر شیطان کی طرح انسان اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کھڑا ہو جائے تو اس کی ناراضگی کو مول لینے والا۔ہے۔