خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 290
خطبات ناصر جلد سوم ۲۹۰ خطبه جمعه ۲۱ راگست ۱۹۷۰ء میں سے جو چوٹی کے علماء تھے وہ اکٹھے ہوئے انہوں نے سر جوڑا، مشورے کئے منصوبہ بنایا اور پھر سارے ہندوستان کے دوسو بڑے بڑے علماء کے دستخطوں سے آپ کے خلاف کفر کا فتویٰ شائع کر دیا۔لوگ بڑے خوش ہوئے کہ چوٹی کے دوسو عالموں نے اس مدعی مہدویت کے خلاف کفر کا فتویٰ لگا دیا ہے وہ سمجھتے تھے کہ چوٹی کے دو سو علماء اگر کسی پر کفر کا فتویٰ لگا ئیں تو وہ ذلیل اور نا کام ہوجاتا ہے اُن کا یہ خیال تھا تبھی انہوں نے یہ فتویٰ دیا نا ! مگر خدا آسمانوں پر مسکرا رہا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ یہ میرا بندہ ہے اور میں اسے عزت دوں گا میں نے اسے اپنے کام کے لئے کھڑا کیا ہے یہ کامیاب ہوگا۔دوسو کیا اگر ساری دنیا کے دو لاکھ چوٹی کے علماء بھی فتوی دیں تو وہ اس کا کچھ بگا ڑ نہیں سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں کہ جس وقت ان سب نے میرے خلاف یہ منصوبہ بنایا چند غیر معروف آدمی میرے ساتھ تھے چنانچہ مخالفین بڑے خوش ہوئے کہ وہ مارا وہ گرا یا مگر اس خدا نے فرمایا میرے ہاتھ پر یہ بیٹھا ہے تمہیں طاقت ہے اس کو مارنے اور گرانے کی؟ ہر گز نہیں چنانچہ جو خدا نے فرمایا وہی پورا ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے یہی وعدہ دیا ہے انہی الفاظ میں کہ تو اور تیرے ماننے والے میری حفاظت میں ہیں اور یہ لوگ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔پس دنیا کی قضا یا دنیا کی سیاست یاد نیا کا انتظام یا دنیا کے منصوبے یا دنیا کے علماء یاد نیا کے فلاسفر احمدیت کو نہیں مٹا سکتے اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ یہ احمدیت کو نہیں مٹا سکتے اس لئے نہیں کہ ہمارے اندر کوئی خوبی ہے آپ سے تو میں یہ کہوں گا کہ آپ عاجزانہ راہوں کو اختیار کریں کبر و غرور کو اپنے دل میں پیدا نہ ہونے دیں اور اس دل کو کبر و غرور کی بجائے اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر پختہ یقین کے ساتھ بھر دیں اور اپنے ایمانوں کے تقاضوں کو پورا کریں آپ کے حق میں اللہ تعالیٰ کے وعدے انشاء اللہ پورے ہوتے جائیں گے۔پس سورۃ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ (اپنی مشیت کے تحت) ذلیل کرنا چاہے یا عذاب دینا چاہے تو تم اس سے بچ نہیں سکتے۔ساری دنیا کی حکومتیں مل کر بھی