خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 287
خطبات ناصر جلد سوم ۲۸۷ خطبه جمعه ۲۱ راگست ۱۹۷۰ء دراصل یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلامتی پہنچانے والے ارشاد مبارک کا ایک اور رنگ میں معنی یا تفسیر تھی۔ہماری زبان میں سلامتی کا شہزادہ وہ ہے جس کی سلامتی کے لئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائیں کیں اور اللہ تعالیٰ نے ان دعاؤں کو قبول فرمایا۔ہے پس ہم نے اس سلامتی کے شہزادہ کو پہچانا اور آپ پر ایمان لائے اور اس بات پر پختگی سے قائم ہیں اور پورا یقین حاصل ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے طفیل حضرت مسیح موعود کی طرف حقیقی معنوں میں منسوب ہونے والے شیطان کے ہر قسم کے حملوں اور مخالفین کے ہر قسم کے منصوبوں سے محفوظ رہیں گے۔دنیا اپنی طرف سے پورا زور لگا چکی۔لگا رہی ہے اور لگاتی رہے گی اور ہمیں اس کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں ہے۔اتنی سال سے دنیا نے مخالفت کا کوئی منصوبہ نہیں چھوڑا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیا بد زبانی بھی کی ، ایذارسانی بھی کی اور اپنی طرف سے ہماری ہلاکت اور تباہی کے سامان بھی کئے حکومت سے چغلیاں بھی کیں جھوٹے مقدمات بھی بنائے۔غرض اپنی طرف سے پورا زور لگا یا لیکن وہ وجود جسے اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کا سہارا اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سلامتی کی دعائیں حاصل تھیں دنیا کی کون سی طاقت تھی جو اسے ہلاک یا تباہ کر سکتی یا اس کے لئے ناکامیوں کے سامان پیدا کر سکتی۔اتنی سال سے مخالفت ہر قسم کے منصوبے بناتی رہی ہر قسم کی سازشیں کرتی رہی مگر ان اتنی سالوں میں دنیا کے کونے کونے میں اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے پہنچ کر دنیا کے دلوں میں ایک انقلاب پیدا کیا اور جس شخص کو ظاہری اقتدار رکھنے والوں نے (سیاسی اقتدار ہو یا مذہبی، کچھ ہو ) دھتکار دیا اور نفرت اور حقارت کی نگاہ اس پر ڈالی اس کے لئے خدا تعالیٰ نے ۷، ۸ ہزار میل دور بسنے والوں کے دلوں میں محبت کا ایسا سمندر پیدا کیا کہ جو انسانی عقل کو حیران کرنے والا ہے دنیا اپنا کام کرتی چلی گئی مخالفین اپنے منصوبے بناتے چلے گئے کفر کے فتوے دینے والوں نے آسمان سر پر اٹھالیا شور مچا مچا کر کہ یہ کا فر ہے لیکن اس شور و غوغہ میں اس شخص کو اور اس کے ماننے والوں کے کانوں میں اللہ تعالیٰ کے پیار کی یہ آواز گونجی کہ دنیا تمہیں کا فر کہتی ہے لیکن میں تمہیں مسلمان سمجھتا ہوں اور تمہارے ساتھ ہوں دنیا کے کافر کہنے سے کیا بنا، یا کیا بن سکتا ہے؟ کفر تو وہ ہے جس کا فتوی خدا دے لعنت