خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 281 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 281

خطبات ناصر جلد سوم ۲۸۱ خطبه جمعه ۱۴ اگست ۱۹۷۰ء بڑی اچھی ہوتی ہیں اسے کیا پتہ کہ اللہ تعالیٰ کو ہماری کون سی چیز پسند آ گئی اور اللہ تعالیٰ اپنی یہ شان ظاہر کرتا ہے کہ جس کو میں دیتا ہوں اسی کو ملتا ہے اور جسکو نہ دینا چاہوں نہیں ملتا۔اسی واسطے ایمان کے تقاضوں کی وہاں شرط لگا دی تھی اتنا بڑا وعدہ کیا تھا لیکن مسلمانوں پر پچھلی تین چار صدیوں میں جو کچھ گزرا اسے دیکھ کر رونا آتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے۔أَنتُمُ الْأَعْلَونَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔(ال عمران : ۱۴۰) اس سے بڑھ کر وعدہ اور بشارت اور کیا مل سکتی ہے فرماتا ہے سوائے تمہارے غالب کوئی نہیں آسکتا تمہارا مخالف غالب نہیں آئے گا غالب تم ہی آؤ گے لیکن اس وعدہ کے باوجود چھلی ۳، ۴ صدیوں میں دنیا نے مسلمانوں کو ذلیل کیا۔انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور ٹو ٹا اور ڈاکے مارے اور عورتیں اغوا کیں (۴۷ء میں نہ جانے کتنی عورتیں اغوا ہوئیں ) کوئی بھی انسان جسے اللہ تعالیٰ نے ذرا بھی عقل دی ہے اس کے علاوہ اور کوئی نتیجہ نہیں نکال سکتا کہ انہوں نے ان كنتُم مُّؤْمِنِین کی شرط پوری نہیں کی جب شرط پوری نہیں کی تو وعدہ رہا ہی کوئی نہیں۔مشروط وعدہ تو شرط کے ساتھ چلتا ہے شرط پوری نہیں ہوئی تو وعدہ پورا نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پھر یہ وعدہ دیا ہے کہ تم غالب آؤ گے اس لحاظ سے بڑی فکر رہتی ہے جماعت کے بچوں اور بڑوں سب کے اوپر ایمان کی شرائط کو پورا کرنے کی ذمہ داری عاید ہوتی ہے اسی وجہ سے میں نے یہ سلسلہ خطبات شروع کیا ہے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ختم ہو گا۔پس ایمان باللہ محض یہ نہیں ہے جسے عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں بلکہ اللہ پر وہ ایمان لانا چاہیے جس کا اسلام ہم سے تقاضا کرتا ہے مثلاً وہ رب العالمین ہے اس کے سوا کوئی رب نہیں ہے وہ رحمان ہے اس کے علاوہ کوئی بغیر استحقاق کے دینے والا نہیں اور وہ رحیم ہے وہ رحیمیت کی صفت کے نتیجہ میں بدلے کا حق پیدا کر دیتا ہے دراصل رحیمیت حق دلواتی نہیں بلکہ حق پیدا کرتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی لطیف تفسیر بیان فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ صفت رحیمیت انسان کی محنت کا حق پیدا کرتی ہے یعنی بدلہ ملنا چاہیے لیکن بدلہ ملتا ہے ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ کی صفت کے ماتحت اور مالک نیکی کا بدلہ دینے پر مجبور نہیں مثلاً