خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 279 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 279

خطبات ناصر جلد سوم ۲۷۹ خطبه جمعه ۱۴ اگست ۱۹۷۰ء شائع کی ہے اس میں ۲۰ - ۲۵ صفحات میں دعا پر اقتباسات ہیں جن میں ۳۔۴ بنیادی باتیں آچکی ہیں۔بہر حال دعا اور تقدیر میں آپس میں کوئی تضاد اور تصادم نہیں ہے اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے وہ اپنی مرضی چلاتا ہے دنیا میں کوئی ایسی مخلوق نہیں جو یہ کہہ سکتی ہو کہ نہیں میں نے اپنی مرضی چلانی ہے مرضی اللہ ہی کی چلے گی کیونکہ وہ تمام صفات حسنہ سے متصف ہے وہ رزاق ہے۔وہی کھیتیوں کو اُگاتا ہے اور پھل عطا کرتا ہے ایک زمیندار رات دن زمین میں ہل چلاتا ہے گرمی میں وہ کھیتوں کی نگرانی کرتا ہے اس کے بیوی بچے بھی اس کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ مثلاً صرف گندم کی فصل اگانے کے لئے اتنی تکلیف برداشت کر رہا ہوتا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں تا کہ وہ بھوکا نہ مرے لیکن جب یہ ساری تکلیفیں اٹھا چکتا ہے تو پھر اس کے کان میں اللہ تعالیٰ کی جو آواز پہنچتی ہے وہ یہ ہوتی ہے۔وَ انْتُمْ تَزْرَعُونَة أَمْ نَحْنُ الزُّرِعُونَ - (الواقعة : ۶۵) کیا کھیتیاں تم اُگاتے ہو شاید تم سمجھتے ہو کہ راتوں کو ہم جاگے تکلیفیں ہم نے اٹھائیں ، دن کی گرمی ہم نے برداشت کی ، پانی کے لئے وقت بے وقت کھالوں پر پہرے ہم نے دیئے پھر بھی یہ نہ سمجھنا کہ سب کچھ تمہاری محنت کا نتیجہ ہے کھیتی وہی آگے گی جسے اللہ تعالیٰ اُگانا چاہتا ہے۔میں نے ایک دفعہ پہلے بھی بتایا تھا۔احمد نگر میں ہماری اپنی گندم کی فصل تھی سٹے پڑ چکے تھے زردی پر آرہے تھے کچھ دنوں کے بعد ہم نے انہیں کاٹا تھا کاٹنے کی مشین بھی منگوائی گئی اتفاقا شام کو پہنچی۔وقت بھی تھا میں باہر نکلا اس کو دیکھ رہا تھا عام اندازہ تھا کہ ۵۰،۴۰ من فی ایکڑ گندم نکلے گی بڑی اچھی فصل تھی کاٹنے کی مشین نیچے اتاری ابھی میں گھر نہیں پہنچا تھا راستے میں ہی تھا پہلے تو آہستہ آہستہ بوندا باندی ہوئی پھر تیز ژالہ باری ( یعنی اولے ) پڑنے لگے کوئی دس پندرہ منٹ تک ژالہ باری ہوتی رہی میں اندر چلا گیا قریباً ایک گھنٹے کے بعد ہمارے وہ کا رکن جو وہاں کام کرتے ہیں وہ آئے وہ بلا مبالغہ رور ہے تھے کہ فصل تباہ ہوگئی روپیہ میں سے چھ آنے باقی رہ گئی۔مجھے بڑا غصہ آیا نالائق آدمی جو باقی چھ آنے رہ گئے ہیں وہ بھی اللہ کا فضل ہے تم اس پر الحمد للہ نہیں