خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 249 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 249

خطبات ناصر جلد سوم ۲۴۹ خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۷۰ء کو اللہ تعالیٰ یہ نشان دکھاتا ہے ان کے وجود میں برکت رکھی ہے۔ان کے وجود میں جاذبیت رکھی ہے اثر رکھا ہے جو بے نفس، آپ کو ربوہ کی گلیوں میں گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں اور آپ کے دل میں ان کی قدر و شناخت نہیں ہوتی۔جب وہ باہر جاتے ہیں تو وہاں کے سر براہ مملکت جو ہیں وہ بھی ان کی عزت کرتے ہیں ہم نے خود مشاہدہ کیا وہاں پھر آدمی سوچ میں پڑتا ہے کہ بظاہر تو یہ شخص اس قابل نہیں تھا۔ہر انسان کی توجہ اس طرف جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ نے ایک وعدہ کیا تھا اور وہ اپنے وعدوں کا سچا ہے اور اس نے اپنے وعدہ کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے بے نفس متبعین اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں مست رہنے والے جو ہیں ان کو یہ اپنا نشان دکھایا ہے اور یہ برکتیں ان کو دی ہیں تو وحدت اقوامی کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔تیسری چیز جو نہایت ضروری بھی ہے وہ الہی تائید اور نصرت اور آسمانی نشانات ہیں اور وہ آپ لے کر آئے اور ایک ایسی جماعت آپ نے پیدا کی کہ جو سچا ایمان اور حقیقی اخلاص رکھنے والی بے نفس جماعت تھی اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ساری دنیا کو نشان دکھا رہا ہے اور وحدت اقوامی کے لئے حالات سازگار کر رہا ہے اس کثرت سے اور اس طرح پھیلے ہوئے ہیں یہ نشانات کہ انسان دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ افریقہ میں ہماری ایک بہن تھیں جن پر مجھے اس خیال سے رحم آیا کہ اگر وہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دعا کے لئے اسی طرح لکھتی رہتی تو اس وقت ان کی مراد پوری ہو جاتی لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ نشان بھی دکھانا تھا کہ اس کی شادی کو چالیس سال گذر چکے تھے اور کوئی لڑکا نہیں تھا غالباً کوئی بچہ ہی نہیں تھا اور میری خلافت کے شروع میں انہوں نے دعا کے لئے لکھنا شروع کیا اور شادی کے چالیس سال بعد اللہ تعالیٰ نے اس عورت کولر کا دیا۔سات ہزار میل دور چالیس سال شادی کو ہو چکے۔انگریز ڈاکٹر تو کہتے ہیں کہ عام عورت پندرہ بیس سال کے بعد بچہ جننے کے قابل ہی نہیں رہتی اور پھر اس عمر میں اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ نشان قبولیت دعا کا دکھایا۔وہاں بھی لوگ دعاؤں کے نشان دیکھتے ہیں بڑی کثرت سے یہ نشان اللہ تعالیٰ ظاہر کر رہا ہے اس لئے ہمیں علاوہ اور باتوں کے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ تمام بنی نوع انسان کو ایک خاندان بنانے کا وقت